Real Islamic Story Dajjal Ki Paidaish Kesy Hue
دجال
کب اور کہاں پیدا ہوا رب کی بارگاہ سے کیوں ٹکرایا گیا جال کس کی اولاد میں سے ہے
اور اس کو کس نے قید کیا تھا دجال کہاں پر قید ہے اور کب وہ
آزاد
ہوگا یہ ایسے سوالات ہیں کہ جن کی آج شام میں سے ہر کسی کو رہتی ہے آج کی ویڈیو
میں انہیں اہم سوالات کے جوابات قرآن و حدیث کی روشنی
میں
دیے جائیں گے آئیے پہلے تو بات کرتے ہیں کہ دجال کی پہچان کیا ہے اور دنیا میں
کیسے تباہی مچائے گا نائی ادھر جائے چوٹ کا بدصورت اور ایک آنکھ
سے
اندھا ہوگا اس کے دونوں پاؤں ٹیڑھے ہو گے اس کا جسم بالوں سے برا ہوگا گھنگریالے
ہوں گے رنگ صورتی اگست میں ہوگا اس کی نعت بڑی اور
طوطے
کی چونچ جیسی ہوگی اس کے ماتھے پر کافر لکھا ہو گا جو کہ مسلمان با آسانی سے پہچان
سکیں گے وہ زمین پر نمودار ہوگا تو لوگوں کو بڑا پرہیزگار دکھائی
دے
گا پر اندر سے کافروں کی طرح ظالم ہوگا جب اس کے پیروکار کافی ہو جائیں گے تو خدا
ہونے کا دعوی کرے گا وہ پر سوار ہو کر پیش کرے گا جس
کے
دونوں آنکھوں کے درمیان لمبائی تقریبا چالیس کے قریب ہوگی وہ جھوٹا آفریدی جن کا
انسان ہوگا اس کے پاس بے تحاشہ دولت کا اذان ہوں گے
وہ
بے شمار نیرو پر قابض ہو گا اس کی اجازت کے بغیر کوئی بھی شخص کے دور تک انسانوں
یا نہ رو سے پانی نہیں دے سکے گا وہ اپنے آپ کو خدا کرے گا جو
قومیں
اس کے پیروکار ہوں گی اس قوم پر بارش برسائے گا تاکہ وہاں آج تک سکے اور وہ قوم
خوشحال ہو گی اور جو قومیں اس کو ٹکرائیں گی ان کو قتل کر
نے
کی کوشش کرے گا اور لوگوں کو کہے گا کہ اگر میں آپ کے باپ دادا کو زندہ کر دوں تو
آپ مجھے خدا مانو گے لوگ اس کی بات پر ہاں کہیں گے تو
دجال
کے شیطان لوگوں کے آباؤ اجداد کی شکلیں درپیش ہوں گے اور اس طرح کافی لوگ اپنے
ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے اس طرح کی تسلی دے
کر
وہ لوگوں کو اپنا پیروکار بنائے گا اس کی رفتار بجلی سے بھی زیادہ تیز ہوگی دنیا
کے ہر کونے میں گردش کرے گا تمام دنیا کے کافر اور اسرائیلی اس کی
حمایت
کریں گے اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ہر جگہ کوشش کرے گا پر وہ ہر جگہ ذلیل و
خوار ہوگا وہ مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کی کوشش نقرس کو
وہاں
مکہ میں داخل نہ ہونے دیا جائے گا اقوام متحدہ سے ذلیل ہو کر مدینہ کی طرف رخ کرے
گا اس وقت مدینہ منورہ کے سات دروازے ہوں گے ہر
دروازے
پر اللہ تعالی کی طرف سے ایک فرشتہ مقرر کر دیا جائے گا جو دجال کو مدینے میں
گھسنے نہیں دے گا وہ اپنی ہر کوشش کے باوجود ناکام ہو جائے گا
انہی
دنوں مدینہ منورہ میں تین منزلہ ہے کہ بہت سارے لوگ مدینہ سے نکل کر باہر کی طرف
بھاگے اور دجال ان سب کو ختم کر دے گا اور ان میں
سے
ایک بزرگ دعوت بالکل شکل میں داخل ہو جائے گا تجھے جعلی لوگوں کو اس بزرگ کی باتوں
پر شک ہو گا کہ ایک شخص ہماری آنکھوں کو ختم کرنا
چاہتا
ہے تو ان کو پکڑ کر دجال کے دربار میں لے جائیں گے جب اس بندے کو دجال کے پاس لے
جایا جائے گا تم دجال کو دیکھتے ہیں جو رابطہ کرنا شروع کر
دے
گا تو ہی محبت جال ہے جس پر ماریا کا صلی اللہ علیہ وسلم کی عطا سے لال پیلا ہو
جائے گا جا کے حکم دینے پر اس شخص کے جسم کے دو ٹکڑے کر دیے
جائیں
گے اور اس کے جسم کے ٹکڑے دے کر اپنے پیروکاروں سے کہے گا کہ اگر میں اس کو دوبارہ
زندہ کر دوں تو تم سب مجھ پر خدا مان لو گے سب یکجا
ہو
کر کہتے ہیں ہم تو آپ کو پہلے ہی خدا مانتے ہیں اگر اس کو دوبارہ زندہ کر دو گے تو
ہمارا یقین پختہ ہو جائے گا جب وہ اس کو دوبارہ زندہ کرے گا تو حکم
خداوندی
سے وہ زندہ ہو کر بولے گا آپ تو مجھے پکا یقین ہوگیا تو توحید جال ہے جو خدا بننے
کا جھوٹا دعوی کر رہا ہے اس پر تجارت کو بھی قتل کرنے کی
کوشش
کرے گا پر اس بار وہ اس کو کرنے میں ناکام ہوگا اور شرم کے مارے اس بزرگ کو آگ میں
پھینکنے کا حکم دے گا جب اس کو آگ میں پھینکا
جائے
گا تو اگر اللہ کے حکم سے ٹھنڈی ہوجائے گی پھر وہ شام کی طرف روانہ ہوگا وہاں دمشق
میں حضرت امام مہدی بھی آ چکے ہوں گے آج آج دنیا میں
چالیس
دن رہے گا جب حضرت امام مہدی کو خبر ہوگئی کہ دجال بھی ادھر کا رخ کر رہا ہے تو
حضرت امام مہدی ایک بہت بڑی فوج کا مقابلہ کرنے کے
لیے
تیار کریں گے تجارت کے مالی حالات اور فوج بہت بہتر ہوگی دنیاوی طاقت کی وجہ سے
بہت آگے ہو گا پر لوگوں کے یقین ہو چکا ہوگا کہ یہ وہی دجال
ہے
جس کا ذکر نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا امام اعظم سے لڑنے کے لیے
دمشق میں مسلمانوں کو اکٹھا کریں گے تم مجھکو ہیڈ کوارٹر کے طور
پر
جانا جائے گا پھر اس کے بعد حضرت امام مہدی ایک نماز کی امامت کروانے کے لئے امام
کی جگہ کی طرف جائیں گے اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام
نازل
ہوں گے نماز کے بعد لوگ امام مہدی اور حضرت عیسی علیہ السلام کے ہمراہ حج کا
مقابلہ کرنے کے لیے روانہ ہوں گے جب دجال کے لشکر کے پاس
پہنچیں
گے تو دجال حضرت عیسی علیہ السلام کو دیکھ کر مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر رہنے کا
فیصلہ کرنے کا سوچے گا پر حضرت عیسی علیہ السلام آگے بڑھ
کر
دجال کو قتل کر دیں گے تجھے قتل کرنے پر عید کی ہر چیز بول اٹھے گی نہ جہادجاری
لشکر کے لوگ چھپے ہوں گے نا میں اس بات کا خدا کے علاوہ کسی کو
نہیں
پتا کہ غالب کون ہے کہاں سے آیا ہے کچھ روایات اس طرح بیان کی گئی ہیں کہ دجال
حضرت آدم علیہ آج کے دور میں بھی موجود تھا کچھ کا کہنا ہے
کہ
حضرت سلیمان علیہ السلام کے دور میں جنات اور انسانوں کے ملاپ سے پیدا ہوا اس کے
آباؤ اجداد کو تو وہاں ہی ختم کر دیا گیا اور 24 کو وہاں قید خانے
میں
شامل کیا گیا یہاں بھی وہاں ہی موجود ہے اس کے ساتھ شیطان کس کو ہر خبر سے باخبر
رکھتے ہیں ناظرین گرامی مسلم شریف کی حدیث پاک ہے کہ
ایک
دن نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے سب کو روک لیا اور منبر پر
تشریف فرما ہوگئے اور فرمایا میں نے تمہیں اس آپ کے لئے جمع کیا
ہے
کہ حضرت تمیم داری پہلے نصرانی تھے وہ آئے اور مسلمان ہو گئے اور مجھے ایک قصہ
بیان کیا ہے میں اس سے خوش ہوا ہوں میں چاہتا ہوں کہ وہ تم کو
بیان
کرو جس سے تم میرے اس بیان کی تصدیق ہو جائے گی جو میں نے کبھی دجال کے متعلق
تمہارے سامنے ذکر کیا تھا وہ کہتا ہے کہ بڑی کشتی میں سوار
ہوا
جس پر سمندروں میں سفر کیا جاتا ہے ان کے ساتھ بین الاقوامی اور جذام کے تیس آدمی
اور تھے سمندر کا طوفان ایک ماہ کا تماشہ بناتا رہا آخر مغربی
جانب
ان کے جزیرہ نظر آیا جس کو دیکھ کر وہ بہت مسرور ہوئے اور چھوٹی کشتیوں میں بیٹھ
کر اس جزیرے پر اتر گئے ہم نے وہاں اکثر جہاں دیکھا جس
میں
سے ایک آدمی کی آواز آ رہی تھی حملہ کرگل میں پہنچے تو ہم نے بڑا قوی ہیکل شخص
دیکھا کہ اس سے قبل ہم نے ویسا کوئی شخص نہیں دیکھا تھا اس کے
ہاتھ
گردن سے ملا کر اس کے پیر گھٹنوں سے لے کر ٹخنوں ہوتا ہے لوہے کی زنجیروں سے نہایت
مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے ہم نے کہا تیرا نہ ہو تو وہ
بولا
پہلے تم بتاؤ تم کون لوگ ہو ہم نے کہا ہم عرب کے باشندے ہیں اس نے کہا مجھے یہ
بتاؤ کہ سانس شام ایک بستی کا نام ہے کہ جو میں پھیلاتا ہے یا نہیں
ہم
نے کہا آتا ہے اس نے کہا وہ وقت قریب ہے جب اس میں پل نہ آئے گا پھر اس نے پوچھا
اچھا بحیرہ طبریہ کے متعلق بتاؤ اس میں پانی ہے یا نہیں ہم
نے
کہا بہت ہے اس نے کہا وہ زمانہ قریب ہے جب پانی نہ رہے گا اس نے پوچھا غزل شام ایک
بستی کا نام ہے کہ چشمہ کے متعلق بتاؤ
کچھ
مستی والے لوگ اپنے کھیتوں کو اس کا پانی دیتے ہیں یا نہیں ہم نے کہا اس نے بھی بہت
پرانی ہے اور بستی والے اسی کے پانی سے اپنے کھیتوں کو
سیراب
کرتے ہیں پھر اس نے کہا نبی الامین کا کچھ حال سناؤ ہم نے کہا وہ مکہ سے ہجرت کر
کے مدینہ تشریف لے آئے ہیں اس نے پوچھا کہ عرب کے
لوگوں
نے ان کے ساتھ جنگ کی ہم نے کہا اس نے پوچھا بھی کیا نتیجہ ہم نے بتایا کہ وہ اپنے
گردو نواح پر تو غالب آچکے اور لوگ ان کی اطاعت قبول
کرچکے
اس نے کہا سن لوگوں کے حق میں یہی بہتر تھا کہ ان کی اطاعت قبول کرتے نبی آخر
الزماں کی بعثت کی خبر سن کر اس نے مارے خوشی کے
چھلانگ
لگائی اور اب میں تم کو اپنے متعلق بتاتا ہوں میں مسیح دجال ہوں اور وہ وقت قریب
ہے جب مجھ کو یہاں سے باہر نکلنے کی اجازت مل جائے گی
اس
روایت کے راوی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ اس کے بعد نبی کریم
صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ کے اشارہ کر کے بتایا دیکھو وہ پہلے
مشرق
کی جانب ہے اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ حضور
صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن تجارت کا ذکر کیا میں
نے
پوچھا وہ کب نکلے گا حضور نے فرمایا جب بھی مارتے مضبوط اور مستقل بنائی جائیں گی
اور عورتیں گھروں کی زینت کرنے لگے گی میں نے پوچھا جو بہتر
ہوجائے
گا تو پھر وہ کب نکلے گا فرمایا جب تجارت کرنے والے جھوٹ بولنے لگیں گے اور لوگ
زنا وغیرہ گناہ کرنے لگے میں نے پوچھا جو پیسہ ہوگا تو کب
نکلے
گا ارشاد فرمایا جب میری امت نبی ص کی بجائے شراب کو حلال سمجھنے لگے اور سود کو
خرید و فروخت کے بدلے زنا کو نکاح کے بدلے حلال سمجھنے لگے
اس
وقت جال کا خروج ہو گا آپ سے کالم لکھتے ہیں کہ جعلی کیسا فتنہ ہے کہ جسے اللہ پاک
نے کبھی پیدا فرما دیا تھا کہ جب حضرت آدم جنت سے نکالے گئے
تھے
یہ بھی بنا ماں باپ کے پیدا کیا گیا ہے نہ گلابی نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے
فرمایا کہ جس نے سورہ کہف کی ابتدائی دس آیات یاد کی اور ان کا ورد کرتا
رہا
تو وہ دجال کےفتنے سے محفوظ رہے گا اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ ہمیں اپنے نیک
بندوں میں شامل تھے

0 Comments