Duniya Ki Pehly Shehar Ki Tabahi


 

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم عراق کے دارالحکومت بغداد سے تقریبا 80 کلومیٹر دور کنڈرات سے بڑا ایک ویران علاقہ ہے جہاں ابھی بھی عجیب و غریب

مقامات کی باقیات موجود ہیں لیکن آپ جان کر حیران ہوں گے کہ یہ دنیا کا سب سے پہلا آباد ہونے والا جدید ترین شہر تھا اس لئے بہت بڑی بڑی

سلطنتوں کے عروج و زوال دیکھے ہیں یہاں تک کہ یہ شہر خود سلطنت بیان اور کلدانی سلطنت کا دارالحکومت رہا ہے 4 ہزار سال قبل مسیح کی پرانی

روایات میں اس شہر کا تذکرہ ملتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ دنیا کے پہلے شہر کو آگ کرنے والا کون تھا کیوں یہ شہر تباہ و برباد ہو کر آج کنڈر میں

تبدیل ہو چکا ہے دنیا کے قدیم سات عجوبوں میں سے کونسا جوب اس پر میں شہر سے جڑا ہے نہ لینا میں ایک ایسا شہر ہے کہ جس کا ذکر ہمیں قرآن پاک

میں ملتا ہے اور اس شہر میں ایک مشہور کنواں بھی تھا جسے چاہے بابل کہا جاتا ہے وہاں کے لوگ اس کو میں جادو کرتے تھے اور اسرائیلی روایات کے

مطابق اسی قوم میں دو مشہور فرشتے عروض اور ماروت بھی قید ہیں یہ بات تو قرآن کی سورہ البقرہ کی آیت نمبر 102 میں صاف لکھا ہے کہ ہاروت اور

ماروت ہی تھے جنہوں نے شہر بابل کے لوگوں کو جادو بھی سکھایا جی ہاں یہ شہر بابل کی بات ہے جو دنیا میں سب سے پہلے میٹروپولیٹن شہر کی حیثیت رکھتا

ہے آئیے سب سے پہلے تو یہ دیکھتے ہیں کہ شہر آباد کیسے ہوا اور کس نے کیا اور ان کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام بابل میں رہتے تھے جب قابیل نے

ہابیل کو قتل کیا توقع بھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ بھاگ کر عرض بابر کے پہاڑوں میں چلا گیا تو اس جگہ کا نام بابل بڑھ گیا جس کے معنی ہیں فقط یا جدائی

پر جب حضرت ادریس علیہ السلام اور ہوئے اور دوسری طرف قابیل کی اولاد بڑھ گئ تو اس نے پہاڑ سے نیچے اتر کر بہت سے برپا کیا اس میلے کے لوگ

بھی شامل ہوگئے تو عذر تدریس نہیں سلام نے سے دعا

 

کو ہی ایسی سرزمین آتا ہوں جس میں عرض بابل کی طرح دریا بہتا ہوا تب انہیں ارض مصر میں منتقل ہونے کا حکم ہوا جب وہ مصر پہنچے تو وہاں کے ماحول

کو زندگی کے موافق اور خوشگوار پایا تو اس کا نام بابل سے ملتا جلتا یعنی بیرون رکھا جس کے معنی ہیں اچھی جدائیاں اچھی فروخت بابل اپنے باغات کی

خوبصورتی کی وجہ سے مشہور تھا جو بادشاہ بخت نصر نے اپنی پیاری بیوی کے لیے تعمیر کروائے اس کا ذکر تورات انجیل اور قرآن پاک کے علاوہ دنیا کے

بے شمار مذہبی کتابوں میں موجود ہے بہت سی روایات میں ہے کہ اس شہر کا ذکر چار ہزار سال قبل مسیح پہلے ملتا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شہر

اس وقت بھی آباد تھا ایس9 قبل مسیح میں گھر پر علامہ خاندان کے ایک شہزادے نے قبضہ کر لیا تھا جس کا نام بادشاہ نمرود تھا جس نے خدائی کا دعوی کیا

تھا اسی نمرود نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں زندہ طلاق دینے کا حکم بھی دیا تھا پھر سترہ سو پچاس قبل مسیح میں بابیلون یا کے بادشاہ حمورابی نے

بابل پر حملہ کیا اور اسے اپنی سلطنت کا دارالحکومت بنا لیا ناظرین میں یہاں سے پھر اس یار کا سنہری دور شروع ہوتا ہے اور ابھی نے اس کی ترقی کے لیے

بہت سے اقدامات کیے یہاں تک کہ یہ شہر اس وقت کی دنیا کا سب سے بڑا شہر بن گیا یہ شہر خوبصورت اور تجارت کے لحاظ سے بھی دنیا کی نظر میں پہلے

نمبر پر تھا بادشاہ ہمارا بھی نے بہت خوبصورت مہلت مذہبی اور تعلیمی ادارے قائم کیے تاکہ اس شہر کے لوگ پر لیکر ترقی کر سکیں کسانوں کے لیے پانی کا

نہری نظام بہتر کیا خدا کے فضل سے زیادہ ہو سکے اور بابل کے لوگ خوش باش زندگی بسر کر سکے اس شہر نے ترقی کرنا شروع کر دی تھی ایک قابل بادشاہ

ہونے کے علاوہ ہمارا بھی ایک اچھا شاعر بھی تھا وہ طلسمات کا بھی ماہر تھا اس کو مطیع بنانے کا بہت شوق تھا طلسمات کے موضوع پر اس کی مشہور تصنیف کا

شفاعت ہمارا بھی ہے جو کہ بابل کے شہر ایم کی کھدائی کے دوران دریافت ہوئی اور پھر کشمیر میں ابھی بھی موجود ہے اور ابھی پہلا بادشاہ تھا جس نے تمام

منصوبے ٹی وی پر اپنی حکومت قائم کی بابل کا علاقہ میسوپوٹیمیا میں ہمیشہ خصوصی اہمیت کا حامل رہا ہے آج بابر کی باقیات رات میں بغداد کے جنوب

مغرب میں واقع ہیں آقا دی زبان کے اس لفظ کا مطلب دیوتا یار دیوتاؤں کا دروازہ ہے آپ نے 45 سالہ دور حکومت میں عمران بابل کی ریاست کو

عظیم الشان سلطنت میں تبدیل کیا لیکن اس وسیع و عریض سلطنت کو ہمراہ کی وفات کے بعد اس کے جانشین سنبھال نہیں سکے اس کی موت کے بعد

جلدی جلدی تتر بتر ہو گی یہاں تک کہ خود ان ہی خاندانوں کا سیاست پر حکومت کرنے لگے حکمران بنو نصر کا بیٹا بختنصر بہت قابل اور چاق و چوبند تھا اس

نے حکومت سنبھالتے ہی مصر کے ساتھ جنگ کی تو اس نے مصر کو بری طرح شکست دے دی اور مصر کو فتح کیا عید کی قوتوں کو اپنا غلام بنایا پھر اس نے

یہودیوں سے جنگ کی یوروشلم کے کئی لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور جو لوگ بچ گئے ان کو قید کر کے بلایا ان لوگوں میں حضرت دانیال علیہ

السلام میں شامل تھے وقت ناصر کے دور کو بابر شہر کا سب سے اچھا دور مانا جاتا ہے اس نے سلطنت کی زیادہ دولت بابل کے شہر کو خوبصورت بنانے کا

اصل بندیوں اور شہر کے موضوع پر بہت زیادہ خرچہ کیا اور نثر کے دور میں سب سے زیادہ اہم بات وہ خوبصورت معلق باغات ہیں جنہیں وقت نصر نے

اپنی حسین وجمیل ملکہ کو خوش کرنے کے لئے آئے تھے ناظرین گرامی ہیں وہ ہوا میں معلق باغات ہیں جنہیں دنیا کے قدیم سات عجوبوں میں شامل کیا

گیا ہے بابل علم و ادب و تمدن کا سب سے بڑا مرکز بن چکا تھا جوانی مرگہ یو ڈی ایس کے مطابق اس دور میں بابل کی آبادی چار لاکھ سے زیادہ تھی وقت نثر

کی حکومت سے پہلے یہ شہر صرف دریائے فرات کے مشرقی حصے پر واقع ہے لیکن وقت گزرنے دریائے فرات پر ایک شاندار اور وسیع تر بنا کر شہر کو دو

حصوں میں تقسیم کر دیا بابل ایک بہت خوبصورت تہذیب و تمدن اور ترقی یافتہ شہر کے ساتھ ساتھ یہاں پر برائی بھی اہم تھی جہاں جادوگروں کی بے

شمار دکانیں تھیں جادوگر لوگوں کو اپنے جادو سے فائدہ نقصان پہنچاتے تھے وہ ایک جادو کو بھی اس میں مانتے تھے رات ہوتے ہی بابل کے شہروں میں

بازار حسن عام ہو جاتا تھا خوبصورت اور اور طبیعت اور راہ گیروں کے ساتھ زنا کاری کرتی قبر کے لوگ بہت بہت پرست تھے انہوں نے اپنے اپنے خدا

بنائے ہوئے تھے ان کی پوجا کرتے اور بے حیائی اتنی تھی کہ وہ اپنے مندروں کو ہی عیاشی کے اڈے ہوئے تھے وہاں ہر طرح کی عورت مل جاتی تھی نہ

کہ مرد اپنی ہوس مٹا سکیں جاہلیت اتنی عام تھی کہ عورتیں اپنا سب کچھ دیوتاؤں کی نظر کر دے دی بابل میں ایک مقام پر سب سے بڑا میلہ لگتا تھا جس

کو فیسٹیول الدین کہتے ہیں ولیوں کے نزدیک یہ دراصل وہ گائے اور بیل کے ملاپ کا میلہ تھا جو ہر سال جوش و خروش سے منایا جاتا تھا اور دور دراز سے

وہاں پہ ہوتا حرکات دیکھنے آتے تھے اس دن جسم فروشی اتنی ہوتی تھی کہ ہر مرد کسی بھی عورت کے ساتھ زنا کاری کر سکتا تھا چاہے وہ عورت بڑے

خاندان سے ہو یا معمولی خاندان سے عمرو شرفا اس تہوار کے سخت خلاف تھے لیکن پجاریوں کا ان لوگوں پر اتنا خوف تھا کہ کوئی شخص انکے سامنے بولنے

کی ہمت تک نہ کرتا یہاں تک کہ ایک مرتبہ خود پتن موتی کی آبرو ریزی اسی تہوار پر ہوئی لیکن بادشاہ کچھ نہ کر سکا کابل میں ایک مقام ایسا تھا جہاں

دوسرے شہروں پر حملہ کر کے وہاں سے لائے گئے دیوی دیوتاؤں کو سجایا جاتا تھا اسی وجہ سے اس مقام کو ایک خاص حیثیت حاصل تھی ایک روایت ہے

کہ برتن سر کی موت ہونے کے بعد اس شہر پر ایران کا بس ہو گیا اور یہ شہر ایرانی سلطنت کا ایک حصہ بن گیا جب سکندر اعظم نے ایران سے جنگ کی تو

اس نے ایرانیوں سے واپس چھین لیا پھر اسی میں سکندر اعظم کی موت ہوئی سکندر اعظم جب اس دنیائے فانی سے چلا گیا تو اس کے بعد اس شخص پر زیادہ

دیر تک کسی ایک ہی حکومت نہ ٹیکس کی قسطنطنیہ نے بھی اس شہر پر حکومت نے کسی نے اس کی تعمیر و ترقی کی طرف توجہ نہ دی تو اس شہر کا آہستہ آہستہ

نام و نشان لکھنا شروع ہوگیا جب یہاں عباسی خلفاء کی حکومت آئی تو یہ شہر ایک چھوٹے سے گاؤں کی شکل میں موجود تھا لیکن اب بغداد شہر سے

 تقریبا 80 کلومیٹر کے فاصلے پر بابل شہر صرف اور صرف کھنڈرات کی صورت میں پایا جاتا ہے بعض ایسی روایات کے مطابق کے شہر بابل قیامت سے

پہلے ایک بار پھر اپنے وجود میں آئے گا جہاں خیر و شر کی سب سے بڑی جنگ ہو گی