Moral Islamic Story Of Imam Ali In Urdu
یمن
کا ایک انتہائی عجیب واقعہ ہے کہ ماں اور بیٹے کی آپس میں شادی ہو گئی دونوں کو اس
بارے میں علم نہ تھا کہ ہم دونوں ماں اور بیٹے ہیں وہ بیوی یعنی ماں
اپنے
شوہر یعنی بیٹے کو لے کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئی اور
کہنے لگی ہے علی میں آپ کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کرنے
کے
لئے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اس عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمانے لگے اور
بتاؤ کیا شکایت ہے مولت کہنے لگی ہے علی ایک سال ہوگیا
ہے
میری شادی اس عورت کے ساتھ ہوئی ہے جس نے آج تک مجھ سے پیار و محبت نہ کیا ہے حضرت
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے عورت کی بات سن کر
مرد
سے پوچھا اے اللہ کے بندے تجھے کیا بات ہے جو کہ تیری بیوی تیرے خلاف یہ شکایت لے
کر حاضر ہوئی ہے وہ لڑکا کہنے لگا اے مولا علی رضی اللہ
تعالیٰ
عنہٗ میں جب بھی صورت کے پاس جاتا ہوں تو پتہ نہیں کیوں میرا دل عورت سے پیار و
محبت کرنے سے مجھے روک دیتا ہے مسجد میں بیٹھ کے
سارے
لوگ اس عورت کو مرد کی طرف متوجہ دے اور سب ہی اس عجیب و غریب مقدمہ پرحیران حضرت
علی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے عورت سے کہا
اور
میں جو بھی تم سے بات پوچھوں گا اس کا سرسر جواب دینا عورت نے کہا کہ ٹھیک ہے جو
بھی آپ نے پوچھنا ہے پوچھیے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ
نے
پوچھا ہے اور احتیاطی رات الفلاح قبیلے سے ہے تیری ماں باپ کا نام بلا ہے اس عورت
نے جواب دیتے ہوئے کہا جی ہاں بالکل میرے قبیلے کا نام بھی
یہی
ہے اور والدہ کا نام بھی یہی ہے جو آپ فرما رہے ہیں اگر تعالی نے سورۃ کو فرمایا
کہ فلاں دن اپنے چچا کے گھر گئی تھی جب میرے چچا زاد بھائی نے
تیرے
ساتھ زبردستی کی تھی اور اس کے بعد وہ حاملہ ہوئی تھیں جس کے بارے میں تو نے اپنی
والدہ سے ذکر کیا تھا تو تیری ماں نے کہا تھا بیٹی کسی کو یہ
بات
مت بتانا اس بارے کسی کو پتہ چلا تو معاشرے میں ہماری بد نام ہوجائے گی بدنامی کے
ڈر سے یہ بات تو نے کسی کو نہیں بتایا بھی نہیں دل تجھ کو درد
نے
ستایا تو نے اپنی والدہ سے اس بات کا ذکر کیا تو تیری والدہ مجھے لے کر شہر سے دور
ایک جنگل میں لی گئی یہاں تو نے ایک لڑکے کچھ نہیں دیا تو تیری ماں
نے
اس لڑکے کو سفید کپڑے میں لپیٹ کر جنگل میں رکھ دیا جب تم دونوں بچوں کو وہاں تنہا
چھوڑ کر واپس آنے لگیں تو تم نے دیکھا کہ کتا بچے کے پاس آ
گیا
ہے تو تیری ماں نے اس کتے کو بچے سے دور بھگانے کے لیے پتھر اٹھا کر طرف پھینکا
کتے کو لگنے کی بجائے تیرے ننگے لڑکے کے سر پر لگ گیا اختر لگنے
کی
وجہ سے بچے کے سر سے خون بہنا شروع ہو گیا تو تیری مان کپڑے کے ساتھ اس کے سر کو
باندھ دیا تھا کیا جو بات نہ کر رہا ہوں وہ سچ ہے اس عورت
نے
جواب دیا اے علی یہ سب کچھ سچ ہے ایسا ہی ہوا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ
نے پوچھا اس واقعے کے بعد وہ لڑکا کہا تھا کوئی پتہ ہے تمہیں
عورت
نے جواب دیا نہیں اس کے بارے میں مجھے کوئی علم نہیں جب عورت نے حضرت علی کو بتایا
یہ سب باتیں سچ ہیں تو حضرت علی لڑکے کی طرف
متوجہ
ہوئے اور فرمانے لگے اپنے سر سے ٹوپی اتارو اس نے اپنے سر سے ٹوپی کو مارا تو اس
لڑکے کے سر پر ایک چوٹ کا نشان تھا حضرت علی نے اس لڑکی
سے
پوچھا یہ سر پر نشان کس چیز کا ہے تو لڑکے نے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کو جواب
دیا کہ علی میرے علم نہ ہو تو یہ نشان کس چیز کا ہے میں نے
جب
سے ہوش سنبھالا ہے میں یہ نشان تب سے ہی دیکھ رہا ہوں اس کے بعد حضرت علی نے اس
بوڑھے شخص کو بلایا جس نے اس لڑکی کی پرورش کی
تھی
اور پوچھا کہ وہ لڑکا تمہیں کہاں اور کس حال میں ملا تھا بوڑھے نے بتایا کہ یہ
مجھے جنگل میں اتحاد میں ملا تھا کہ اس کے سر پر کپڑا بنتا تھا جس میں سے
خون
نکل رہا تھا جو کہ میں بے اولاد تھا اس لئے میں نے اسے اپنے لڑکے کی طرح ہی پالا
ہے از حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے اس جواب کو سن کر
عورت
کو فرمایا اے عورت یہ تمہارا خاوند نہیں ہے بلکہ یہ تو تمہارا وہ بیٹا ہے جس پر تم
جنگل میں چھوڑ آئی تھی اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرو کیوں اللہ
پاک
نے تم کو پھر سے حرام کام کرنے سے بچا لیا ہے اللہ اکبر نبی اکرم صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا کہ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے اللہ پاک
ہم
سب کے گناہوں کو معاف فرمائے ہمیں نے کمال کر لیا اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم
کی شریعت پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے ہمیں اہل
بیت
سے سچی اور پکی محبت عطا فرمائے اللہ پاک ویڈیو کو سننے والے تمام لوگوں کی بے
چینیوں کو دور فرما کر ان کے گھروں کو امن کا گہوارہ بنا دے کمنٹس
میں
عام لکھا مت بھولیے گا نہ جانے کس کی آمین اللہ پاک کو پسند آئے اور ہماری یہ
دعائیں قبول ہو جائیں

0 Comments