Namaz Mein Ankhien Band Karna


 

بسم اللہ الرحمن الرحیم اکثر ہمارے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ نماز آنکھیں کھول کے پڑھنی چاہیے یا کہ بند کر کے اکثر لوگوں کو یہ بھی ہوتا ہے

کہ اگر آنکھیں کھول کے نماز پڑھی جائے تو دھیان بٹ جاتا ہے بے شک نماز اسلام کے پانچ ستونوں میں سے دوسرا اہم ستون ہے ایمان کے بعد قرآن

میں بھی سب سے زیادہ نماز کا ہی ذکر ہے اور اللہ نے اس کو پابندی سے قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے نماز انسان کو خدا کے قریب کرتی ہے وجہ ہے کہ جو اللہ

کی یاد میں ہر وقت مشغول رہتے ہیں ان لوگوں پر اللہ کا خاص کرم وفضل ہوتا ہے خدا کے ذکر کے علاوہ کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ جس کے ذریعے ہم خدا

تک پہنچ میں نماز ادا کرنے سے ہم کو دلی سکون میسر ہوتا ہے دنیا میں صرف اور صرف سکون خدا کی عبادت میں ہی ملتا ہے جو خدا کے بندے پابندی سے

نماز کو قائم کرتے ہیں ان کا ایمان یقین اپنے خدا پر پکا ہوتا جاتا ہے جو بندے اپنے خدا کی عبادت میں دل نہیں لگاتے ان کا یقین دن بدن کمزور ہوتا جاتا

ہے نبی اکرم رحمت دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ مسلمان اور کافر میں فرق نماز کا ہی ہوتا ہے جو بتاتی ہے کہ

مسلمان کون ہے اور کافر کون ہے اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ نماز اس طرح ادا کرو جس طرح مجھے ادا کرتے ہوئے

دیکھتے ہو بے شک اللہ کے نبی نے ایسے خصوصی پڑی ہے کہ اللہ تعالی کو بھی ان کا نماز ادا کرنا بہت پسند آئی اعلان نبوت سے پہلے خدا کے رسول نے

حرام جا کر عبادت کیا کرتے تھے وہ اپنے آپ کو عبادت میں مشغول کرتے ہیں دنیا کے ہر کام کو اپنے ذہن سے نکال دیتے جب عمران نبوت ہوا تو آپ

سے لاہو علیہ وآلہ وسلم چھپ کر نماز ادا کیا کرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے نفلی عبادت میں بھی بڑی دلچسپی کا مظاہرہ کیا آپ رات نماز کے

لئے کھڑے ہوتے تھے اکثر نماز ادا کرتے کرتے صبح ہو جاتی آپ نماز میں اتنے مگن ہوجاتے کہ آپ کو وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا کہ کیسے گزر گیا

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جیسی نماز نہ آج تک کسی نے ادا کی اور نہ ہی کر پائے گا شروع میں جب نماز تہجد فرض ہوئی تو اللہ کے نبی پابندی کے

ساتھ نماز تہجد ادا کرتے رہے اس کے بعد دو رکعت نماز صبح شام ادا کرنے کا حکم ہوا اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبح شام کی نماز ادا کرتے رہے

رات گئے تک اللہ کی عبادت میں مصروف رہتے ہیں سری لنکا مطابق تقریبا ایک سال کے بعد تہجد کو نفلی عبادت میں تبدیل کیا گیا جب پانچ نمازیں فرض

ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے تمام صحابہ کرام کو پانچ وقت کی نمازوں کی پابندی ایسے کروائیں کے اس کی مثال آج تک زندہ ہے اور

ہمیشہ زندہ رہے گی بخاری شریف میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن قادری عمل مومنین حضرت عائشہ کے پاس تشریف آور ہوا اور آپ سے عرض کی کہ

اے امیر المومنین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی اچھی سی بات بتائیں جس پر میں عمل کرکے اپنی دنیا و آخرت سنوار سکوں اس پر حضرت

عائشہ نے فرمایا حضرت محمد کی تو ہر منہ سے نکلی ہوئی بات اور ہر عمل اچھا ہے جس کی مثال اس دنیا و آخرت میں نہیں دیا حضرت عائشہ نے فرمایا کہ ایک

رات کا واقعہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ میرے پاس تشریف لائے اور آکر لیٹ گئے اور فرمایا اے عائشہ مجھے اکیلا چھوڑ دو تاکہ میں

اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کر سکوں یہ الفاظ کہہ کر اللہ کے نبی نے جائے نماز پر عبادت کے لیے ہوئے حضرت عائشہ نے فرمایا کہ میں نے دیکھا کہ اللہ

کے نبی نماز ادا کرتے رہے زاروقطار روتے رہے یہاں تک کہ داڑھی کپڑے اور جائے نماز آنسو سے تر ہو گی یہ عمل جاری تھا کہ معجزہ رسول صبح کی اذان

دے دیں میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی حال اس قدر کیوں روتے ہیں آپ تو اللہ کے پیغمبر اور جنتی بندے ہیں آپ نے فرمایا اے عائشہ کی عمر میں

اپنے رب کی شکر گزار بندوں میں شامل نہ ہو آپ ساری ساری رات عبادت میں گزار دیتے آئے اب سوال کی طرف چلتے ہیں کہ نماز میں آنکھیں بند

کرنی چاہیے یا کہ نہیں نماز میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے یا نہیں بنا ضرورت آنکھیں بند کرکے نماز پڑھنا منع ہے کیونکہ حالت قیام میں سجدے کی جگہ کو

دیکھنا مسنون ہے اور سنت رسول بھی ویسے بھی احادیث موجود ہیں جن میں آنکھیں بند کرنا نبی کریم سے ثابت نہیں ہے نمبر 750 ہے کہ حضرت انس

رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوا وہ نماز میں اپنی نظریں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں پھر آپ

صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق بڑی سختی سے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو اس سے باز آنا چاہیے یا پھر ان کی بینائی کو اسے کیا جائے گا اس حدیث سے پتہ

چلتا ہے کہ موسمیات دیکھ رہا ہے یا نیچے سجدے کی جگہ امام کی جانب دیکھا جائے اور یہ دیکھنا آنکھیں کھولے بغیر نہیں ہوسکتا اسی طرح بخاری کی حدیث

نمبر 752 ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دار چادر پر نماز پڑھی پھر فرمایا کہ اس کے

نقوش نگار نے مجھے ٹھکرا دیا اسے لے جاؤ اور ان کو شام کو واپس کر دو اور اس کی بجائے ایک ساتھ ہی چادر مانگنا ہو استدلال اس حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر طاری دار چادر پڑھنے کی وجہ سے نماز میں چکرائے کھویا نماز میں آپ کی آنکھیں کھلی تھیں تبھی تو آپ کی نظر پڑی اسی

طرح بخاری کی حدیث نمبر 476 ہے کہ حضرت ابو محمد راوی ہیں کہ ہم نے حضرت خباب رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ

وسلم ظہر اور عصر کی رکعتوں میں فاتحہ کے علاوہ کوئی اور صورت بھی پڑھتے تھے انہوں نے حاکم نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی مبارک کے

ہلنے سے یہ سمجھا ہے کہ آپ کوئی اور صورت بھی پڑھتے تھے حضرت امام طبرانی روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں

کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جب کوئی نماز کے لیے کھڑا ہو تو وہ اپنی آنکھیں بند نہ کرے اسی طرح اہل علم نے نماز میں آنکھیں

بند کرنے کو یہودیوں کا عمل قرار دیا ہے اسی لیے ان کی مخالفت میں یہ ضرور مسلمان آنکھیں کھول کر نماز ادا کریں علامہ ابن قیم زاد المعاد میں فرماتے

ہیں کہ اگر آنکھ کھول کر نماز ادا کرنا خطوں میں مخل نہیں ہے تو آنکھیں کھول کر نماز ادا کرنا افضل ہوگا ہاں اگر قبلہ کے سامنے زینت و زیبائش اور

آرائش کے وجہ سے نماز کا خشوع و خضوع متاثر ہو رہا ہے تو آنکھیں بند کرنا مکروہ نہیں ہوگا بلکہ ایسی حالت میں مستحب کہنا اصول شریعت کے زیادہ قریب ہے خلاصۃ یہ کہیں گے کہ نماز کی اصل آنکھوں پر ہی ہے یعنی ہم آنکھیں کھول کر نماز پڑھیں گے قیام اور رکوع کی حالت میں سجدے کی جگہ

نظر ہو سجدے میں معروف ہے اور قعدہ میں تشہد کی انگلی پر اور اگر کسی سبب آنکھیں بند کرنے کے بعد پیش آیا نماز میں خلل آئے یا کوئی تکلیف وغیرہ

پیش آئے یا نماز میں کسی اور جانب متوجہ ہونے کا خطرہ ہو تو آنکھیں بند کی جا سکتی ہیں اللہ کرے ہمارے گناہوں کو معاف فرمائے ہمیں نیک عمل کرنے

اور پنجگانہ نماز ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے