Jurwa Behno Ke Dardnaak Kahni In Urdu




 

بسم اللہ الرحمن الرحیم فارس میں ایک انتہائی نیک بادشاہ تھا جو اپنی رعایا کا بے حد خیال رکھتا تھا وہ اکثر رات کو بھیس بدل کر اپنے شہر کا چکر لگایا کرتا تھا کہ

وہ جا نہ سکے کہ اس کی عوام اس سے خوش ہے یا نہیں ایک رات کو اسی طرح گشت کرنے نکلا تو ایک تنگ گلی میں اس نے کچھ عورتوں کی آواز سنی جب

اس نے غور کیا تو وہ قریب ہی موجود دیکھ اور مکان سے آنے والی آواز دی تھی بادشاہ نے سوچا کہ یہ ضرور مصیبت میں ہے مجھے ان کی باتیں سنیں چاہیے

چنانچہ وہ دروازے کے قریب ہوا جس کا ڈر تھا جگہ جگہ سے ٹوٹا ہوا تھا وہاں نوجوان لڑکیاں اپنے کام میں مشغول باتیں کر رہی تھی بڑی بہن بولی میرا تو

دل چاہتا ہے کہ کسی طرح میری شادی ہمارے بادشاہ کے مشہور تاجر علی بلقیس سے ہو جائے چھوٹی بہن یوں کہنے لگی اچھا نہیں میں تو یہ چاہتی ہوں کہ

میری شادی ہمارے بادشاہ سے ہی ہو جائے اور پھر میں تم سے کی ملکہ بن جاؤں گا ان دونوں بہنوں کو اپنے پاس دربار میں بلا لیا اور کہنے لگا مجھے بتاؤ کل

رات کو فلاں وقت تم دونوں نے کونسی خواہشات کا اظہار کیا تھا دونوں ڈر کے مارے نہ بولے تو بادشاہ نے کہا مجھے سچ بتاؤ کہ تم لوگوں نے کس کس سے

شادی کی خواہش ظاہر کی تھی کہ دونوں بہنوں نے بتایا کہ ان کی خواہشات پوری کردی اور بڑی بہن کی شادی اپنے تاجر کے ساتھ دیں اور چھوٹی بہن

سے خود شادی کرلی اب جیسے ہی چھوٹی بہن ملک کی ملکہ بن گئی تو بڑی بہن اس سے حسد کرنے لگی اور افسوس مرگئے کا شخص رات میں یہ خواہش کرتی کہ

میں نے بادشاہ سے شادی کرنی ہے تو آج چھوٹی بہن کی جگہ میں ملکہ ہوتی خیر ملک وہ ملک ہے کیا جس پر بڑی بہن اپنی چھوٹی بہن کو مبارکباد دینے آئیں

اور اس کے ڈاٹ دے کر پھر سے حاصل کرنے لگے اور سوچنے لگی کہ کس طرح اپنی چھوٹی بہن کو بادشاہ کی نظروں میں کرایا جائے بچے کی پیدائش کا

وقت ہے ملکہ نے اپنی بڑی بہن کو اپنے پاس بلا لیا بڑی بہن پہلے ہی ملکہ کی کنیز کو اپنے ساتھ ملا چکی تھی کہ جو ملک کو بچہ پیدا ہوا تو اس کی بڑی بہن اور کنیز

نے مل کر اس بچے کو ایک ٹوکری میں رکھ کر محل سے بہنے والی نہر میں بہا دیا اور اس بچے کی جگہ ایک بندر کا بچہ رکھ دیا اور شور مچادیا کہ ملکہ نے بادشاہ

کے بیٹے کی بجائے ایک بندر کو جنم دیا ہے یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پورے محلے میں پھیل گئی جس سے بادشاہ آگ بگولا ہو گیا کہ میں تو لڑکی کو معلوم

سمجھ کر پیا کر لایا تھا لیکن اس نے میرے بیٹے کی بجائے بندر کو جنم دے کر پورے ملک میں میرا نام بد نام کیا ہے اس کو سزا ملتی رہے گی بڑی بہن نے یہ

شادی بھی اسی لئے تھی کہ اس کی چھوٹی بہن ملکہ نہ رہے اور ذلیل و خوار ہو جائے کر بادشاہ نے ایک سمجھدار وزیر کے کہنے پر اپنے ملک کو معاف کردیا تو

کے دریا میں بہتی جا رہی تھی دریا کے کنارے مالی اپنے کام میں مشغول تھا کہ اچانک اس کی نظر اس ٹوکری پر پڑی اس نے اس ٹوکری کو دریا سے نکال کر

 

دیکھا تو اس میں چھوٹا سا بچہ تھا والی اس کو گھر لے گئے اور اپنی بیوی کو سارا واقعہ سنایا بیوی بچے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی کیونکہ وہ بے اولاد تھی اس نے

اس بچے کی پرورش بڑے لاڈ پیار سے کرنا شروع کر دی دوسرے سال بھی ملکہ کے گھر آئی ایک ننھی سی بچی پیدا ہوئی ملتان بدقسمتی سے اس بار پھر اپنی

بہن کو بلا لیا اس دفعہ نیز کے ساتھ مل کر ایک خنزیر کا بچہ منگوایا اور بادشاہ نے کہا کہ آپ کے گھر اس دفعہ خنزیر کا بچہ پیدا ہوا ہے جبکہ بچی کو پینے کی ٹوکری

میں دریا میں بہا دیا اس بار پی ٹی وی بچیاں سیم علی کے ہاتھ لگی بادشاہ نے اس دفعہ اپنے آپ پر قابو نہ رکھ اپنی ملکہ کو پنجرے میں قید کر کے ایک مکان

میں رکھ دیا اور لوگوں سے کہا کہ جب بھی کوئی اس کے پاس سے گزرے تو اسے جانوروں کی ماں کہا جائے بادشاہ کے حکم پر وہ بندر کا بچہ اور خنزیر کا بچہ

بھی اس کے ساتھ ہی اسی پنجرے میں قید کر دیا گیا دوسری طرف بڑی بہن بہت خوش تھی کہ اس کی چھوٹی بہن ملکہ نہیں رہی بلکہ عبرت ناک کی ہڈی

بن چکی ہے خیرو گٹکا اور یہ بچہ اور بچی مالک کے گھر پر مشتمل آنے لگے مالی نے بچے کا نام شیر جبکہ بچی کا نام معصوم رہا تھا اس نے ان بچوں کی پرورش بڑے

اچھے طریقے سے کئی بچے پڑھ لکھ گئے کچھ سالوں بعد مال کی موت ہوگئی اور مالی وقت کے ساتھ ساتھ امیر ہوتا گیا اس نے بادشاہ سے اجازت لے کر

اپنے دونو بچو کے لیے ایک اچھا سا محل تعمیر کروایا محلے میں ایک شاندار باب بنوایا اور وہاں پرندوں کے لیے ایک الگ جگہ بنائی انہی دنوں مال کا بھی

انتقال ہو گیا بچے مالک کے مرنے پر بھی بہت روئے جیسے اولاد اپنے والدین کے وصال ہونے پر روتی ہے ناظرین گرامی ملکہ کی بڑی بہن جانتی تھی کہ یہ

بچے مالی کے پاس ہیں کیونکہ جب بھی بچے کو بھاتی ہے تو اس کا پیچھا کرتی تھی تاکہ اسے پتہ چل سکے کہ وہ بچے کس کے پاس پہنچتے ہیں چنانچہ ملک فوت

ہونے پر جب شمشیر اور جمعہ اکیلے ہو گئے تو بڑی بہن نے یہ منصوبہ بنایا کہ اب ان دونوں کو ختم کرنا ضروری ہو گیا ہے ایسا نہ ہو کہ بادشاہ کو کسی طریقے

سے اپنے بچوں کا کہیں سے بھی علم ہو جائے اس لیے اسی کنیز کو جس کو اپنے ساتھ ملا کر یہ مکاری والا کام کیا تھا ان بچوں کے پاس بھیجا کہ جا کر کسی طریقے

سکون کو میرے گھر میں لے آؤ جہاں میں ان دونوں کی موت کا انتظام کرو گی کنیز ایک دن معصومہ کے پاس آئی اور کہنے لگی میں تمہارا گھر دیکھنے آئی

ہوں جس نے تمہارے والد ماجد نے خاص طور پر تم دونوں بہن بھائیوں کے لیے بنایا تھا اس کی خوب آؤ بھگت کی اور اسے خوب پھیلایا بلایا اور دونوں

بعد میں چلی گئی اس نے کہا خدا کی دی ہر چیز اس بات میں موجود ہے لیکن بس ایک چیز کی کمی ہے معصومہ کہنے لگی وہ کیا ہوا جی شکریہ کہنے لگی کہ وہ بولنے

والی چڑیا ہے معلوم ہی نہیں کیا بولنے والی چڑیا اس دنیا میں موجود ہے کنیز کہنے لگی ہاں اس شہر میں آکر ہے جہاں بولنے والی چڑیا بایا جاتی ہے اگر تم چاہتی

ہو کہ وہ چڑیا تمہیں مل جائے تو لویہ 91 ہوتی اور یہ موتی اس گھر کی مالکن کو دے دینا تو وہ تمہیں بولنے والی چڑیا دے دے گی لیکن تمہیں وہاں اپنے بھائی

کو بھی لے کر جانا ہے شام کو شیر آیا تو میں نے اس کو ساری بات بتائی تو دونوں وہ موتی لے کر اس گھر کی طرف نکل پڑے جو کنیز نے بتایا تھا کہ وہ دونوں

اس گھر میں پہنچے تو وہاں پہلے سے ایک گڑھا کھود رکھا تھا جس میں معصوم اور شمشیر کو دھکیل دیا گیا اور درس کنیز نے گڑھے میں گرے ہوئے شمشیر اور

معصوم کو بتایا کہ یہ سات کریں اور تمہاری خالہ ہے اور پھر ساری بات بتائی کیسے تمہاری خالہ نے اور میں نے مل کر تمہاری والدہ جو حلقہ بھی اس کو قید

کروایا اللہ کی کرنیں ایسی ہوئی کہ اگلے ہی دن اس مکان کی دیوار گر گئی اور لوگوں نے اس گڑھے سے شمشیر اور معصوم کو نکال لیا یہ دونوں نکلتے ہی سیدھا

بادشاہ کے پاس آئے اور کہنے لگے ہم بادشاہ کی دعوت کرنا چاہتے ہیں بادشاہ کو بتایا گیا کہ دو بچے ایسے ہیں جو کہ آپ کی دعوت کرنا چاہتے ہیں بادشاہ بہت

حیران ہوا اور ان دونوں کو پیش کرنے کا حکم دیا جب وہ سامنے آئے تو کہنے لگے ہم آپ کی دعوت کرنا چاہتے ہیں بادشاہ کو ان کی معصومیت پسند آئی رات

کے کھانے کے لئے ان کے گھر پہنچ گیا بادشاہ جب ان کے گھر پہنچا تو معصوم اور شمشیر نے بس ایک ہی ڈش بادشاہ کے سامنے رکھی بادشاہ نے جب استاد

سے کپڑا ہٹایا تو دیکھ کر غصے میں آ گیا کیونکہ استاد میں ایسی کی تھی جس کے اندر موتی ڈالے گئے تھے بادشاہ بولا واہ مجھے تو آج پتا چلا کہ ہمارے ملک میں

موتیوں سے بنی کھیل بھی کی جاتی ہے یہ سن کرمعصومہ بولیں آپ موتیوں کی قیمت دیکھ کر حیران ہو گئے ہو اس وقت تو نہیں حیران ہوئے تھے کہ جب

آپ کی ملکہ نے بندر اور خنزیر کو جنم دیا تھا کہ کوئی انسان بندر اور خنزیر کو پیدا کر سکتا ہے معصومہ رونے لگی تو شمشیر نے ساری تفصیل بادشاہ کو بتا دیں کہ

ہم دونوں تمہارے ہی بچے ہیں بادشاہ نے فورا بڑی بہن اور کنیز کو گرفتار کر لیا کر سارے واقعے کی تصدیق کی اور بھی بچوں کو گلے لگا کر رونے لگا اور

معافیاں مانگنے لگا پنجرے میں قید ملکہ کو باہر نکال لیا گیا