Khana Kaba Ki Jagah Par Baitullah Se Pehly Kia Tha
مسلمانوں
کے سب سے مقدس مقام خانہ کعبہ کی موجودہ عمارت جو ہمیں نظر آتی ہے اس کو چار سو
پچاس سال پہلے 240 ہی میں سلطنت عثمانیہ کے
سلطان
مراد احمد خان شاہ قسطنطنیہ نے تعمیر کروایا جس پر فہد بن عبداللہ نے چودہ سو سترہ
کو تجدید کا کام کیا یا موجودہ عمارت کی تعمیر صرف چار سو چار سال
پرانی
ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے والی عمارت کس نے اور کب میں ایک
کھانا کعبہ کو سب سے پہلے کس نے تعمیر کیا اور پہلا حج کس
نے
کیا بیت اللہ جب موجود نہیں تھا تو اس سے پہلے وہاں پر گیا تھا کون کون سے نبی نے
کس کس طرح خانہ کعبہ کو تعمیر کیا گیا یہ درست ہے کہ سب سے
پہلے
اللہ پاک نے کھانا کعبہ کو پیدا کیا اگر یہ درست ہے تو کیا کسی قرآنی آیت یا حدیث
سے ثابت ہم سب نے یہ تو سن رکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ
السلام
نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ھوگی کہ یہ تعمیر پہلی دفعہ
نہ تھی یا اس سے پہلے بھی موجود تھا امام ابی محمد البغوی اپنی مشہور
زمانہ
تصنیف تفسیر خازن میں لکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی سب سے پہلی تعمیر سونے کی جو کہ
حضرت آدم کی تخلیق سے بھی دو ہزار سال پہلے تھی کہ بالکل اسی
جگہ
تھی جہاں موجودہ بیت اللہ موجود ہے تفسیر قرطبی میں امام شمس الدین روایت کرتے ہیں
کہ جب فرشتوں نے کہا کہ اے اللہ پاک انسان تو زمین
میں
فساد پھیلائے گا جس پر اللہ پاک نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے
بس فرشتوں نے یہ مان لیا کہ اللہ پاک ہم سے ناراض ہو گیا ہے
چناچہ
انہوں نے گوشوں میں طواف کرنا شروع کردیا اور ساتھ میں اللہ کی تسبیح اونچی آواز
میں شروع کی تو اللہ نے ان پر رحم فرمایا اور اسی جگہ جہاں
انہوں
نے چکر لگائے اپنے عرش کے نیچے ایک بے مثال زبرجد کے چار ستونوں پر ایک گھر تعمیر
فرما دیا جو بیت المعمور کے نام سے مشہور ہوا سورۃ نور کی
آیت
نمبر 49 میں اللہ پاک نے بیت المعمور کا ذکر فرمایا ہے بیت المعمور ساتویں آسمان
میں عرف کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل اوپر ہے آسمان میں
اس
کی قیمت ایسے ہی ہے جیسے کعبہ معظمہ کی عظمت ہے یا آسمان والوں کا قبلہ ہے اور ہر
روز ستر ہزار فرشتے اس میں طواف کے لیے اور نماز کے لئے
حاضر
ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں واپس آنے کا موقع نہیں ملتا اس کے بعد اللہ تعالی نے
فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین پر بھی اس بیت المقدس کی مانند میرا گھر
بناؤں
گا کر جس طرح فرشتے بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں اسی طرح زمین پر میرے بندے اس
گھر کا طواف کریں گے چنانچہ حکم الہی کی تعمیل میں
فرشتوں
نے اللہ شریف کی تعمیر کی اور اس کا طواف شروع کیا اور فرش نہیں اس کا سب سے پہلے
حج بھی کیا یہ تھی مکہ میں خانہ کعبہ کی سب سے پہلی تعمیر
جو
کہ جنات اور فرشتوں کی لڑائی متاثر ہو گئی اور پھر جب اللہ پاک نے حضرت آدم کو
زمین پر بھیجا تو انہیں اسی بنیادوں پر دوبارہ خانہ کعبہ تعمیر کرنے کا
حکم
دیا حضرت علی علیہ السلام نے ان بنیادوں کی نشاندہی کی اور حضرت آدم نے بیت اللہ
شریف تعمیر کیا کہ اللہ نے حضرت آدم کو طواف کا حکم دیا اور
ساتھ
فرمایا آپ پہلے انسان ہیں اور یہ پہلا اگر تیسری تعمیر وقت کے ساتھ ساتھ کعبہ کی
دیواریں کمزور ہوئی تو حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے حضرت
شیث
علیہ السلام نے مٹی اور پتھر سے خانہ کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا جبکہ کچھ مفسرین کا
خیال ہے کہ حضرت شیش علیہ السلام نے صرف مرمت کا کام کیا تھا
جو
دید امیر ناظرین گرامی تاریخی روایت میں ہے کہ جب طوفان نوح آیا تو اس میں خانہ
کعبہ کی عمارت بالکل غائب ہو کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام
مکہ
گئے تو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے حضرت جبرائیل کی بتائیں کی
نشانیوں پر کھدائی کرکے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جب القرآن
بنیادوں
پر تھی جہاں حضرت آدم نے اس کو تعمیر فرمایا تھا قرآن کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر
127 134 میں اس کا تفصیلی ذکر موجود ہے جب حضرت
ابراہیم
علیہ السلام مکہ پہنچے تو وہاں خانہ کعبہ کی جگہ صرف ایک سرخ پیلا تھا ابھی حضرت
جبرائیل علیہ السلام کی نشاندہی حضرت جبرائیل اسلام کی
نشاندہی
پر جبل ابو قبیس کی کو سے دو پتر ابراہیم علیہ السلام کو ملے ان میں سے ایک حجرہ
اسود بطور ایک مقام ابراہیم کے نام سے مشہور ہے وہ کام نہیں وہ
مشہور
پتا ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم نے کعبہ کی دیواریں بلند کی جیسے جیسے
دیواریں بلند ہوتی گئی یہ پتھر بھی عوام میں بلند ہوتا رہا رسول اللہ
صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے اجر اسود جنت سے اترا تو
دور سے بھی زیادہ سفید تھا پھر انسان کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا
ایک
اور حدیث نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت
کے قوتوں میں سے دو یاقوت ہیں اللہ تعالی نے ان کے نور کی
روشنی
بجھا دیں اور اگر اللہ تعالیٰ کسی نہ بچا تو یہ مشرق سے مغرب کو روشن کر دیتے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ بیت اللہ کی جگہ پر
پہلے
کیا تھا آپ نے فرمایا کہ بیت اللہ خادم کے زمانے سے ہے ناظرین گرامی کھانا کعبہ کی
عمارت کی پانچویں تعمیر قوم عمالقہ نے بنیادیں کمزور ہونے کی وجہ
سے
کیں جبکہ چھٹی تمیز قبیلہ جرہم کے سردار جب نماز پڑھنے کی اسی طرح بیت اللہ کی
ساتویں تعمیر نبی آخرالزماں آقائے دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ
علیہ
وسلم کے پاک نظمیں ان کے بزرگ حضرت کو انقلاب نے کی یہ خانہ کعبہ کی از سر نو
تعمیر تھی انہوں نے اپنے زمانے کی سب سے بے اور پختہ
عمارت
تعمیر فرمائی اس کے بعد جبکہ قبیلہ قریش بیت اللہ کے متولی تھے تو ایک دفعہ بہت
زیادہ سیلاب آئے جس سے بیت اللہ کی بنیادوں کو بہت نقصان
اس
وجہ سے متفقہ طور پر اس کو منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور بیت اللہ شریف کی
آٹھویں تعمیر تھی میں یہی وہ مشہور تعمیر تھی کہ جس میں محبوب
کائنات
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی شرکت فرمائی تھی اس تعمیر میں سرمائے کی
کمی کی وجہ سے حکیم کو شامل نہ کیا گیا نوی تعمیر خانہ کعبہ کی
دیواریں
شکستہ ہو گئی تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے حکیم جو کہ قریش کی تعمیر میں شامل نہ
کیا گیا تھا اس کو شامل کر کے بنیادی ابراہیمی پر نئے سرے سے
تعمیر
کیا بیت اللہ کی دسویں تعمیر عبدالملک بن مروان کے نائب حجاج بن یوسف جو کہ ایک
ظالم حکمران تھا اس نے چوہدری جی میں گھر سے کھانا کعبہ کو
قریش
والی تعمیر کے مطابق بنا دیا خلیفہ دوم سن کر بیٹھا تو اس نے خانہ کعبہ کو منہدم
کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ عبداللہ بن زبیر کی تعمیر کے مطابق تعمیر کرنا
چاہتا
تھا لیکن امام ابو یوسف نے یہ کہہ کر اسے روک دیا کہ اگر یہی طریقہ رہا تو پھر ہر
آنے والا حکمران اپنی شہرت کے لئے خانہ کعبہ کو گرا کر تعمیر کرتا
رہے
گا اور لوگوں کے دلوں سے اس گھر کی عظمت کام ہو جائے گی پھر سوچا کہ میں سلطنت
عثمانیہ کے سلطان مراد بن احمد خان شاہ قسطنطنیہ نے حج
قسمت
والے رکن کے علاوہ ساری عمارت کو بنیادی ابراہیمی پر تعمیر کیا یہی وہ تعمیر تھی
جس میں پہلی بار خانہ کعبہ پر پردہ یا غلاف ڈالا گیا جس پر کلمہ طیبہ
لکھا
تھا عثمانی کی تعمیر کے بعد شاہ فہد بن عبدالعزیز نے سن چودہ سو 17 کو بیت اللہ
شریف کی تجدید کا کام کیا
مسلمانوں
کے سب سے مقدس مقام خانہ کعبہ کی موجودہ عمارت جو ہمیں نظر آتی ہے اس کو چار سو
پچاس سال پہلے 240 ہی میں سلطنت عثمانیہ کے
سلطان
مراد احمد خان شاہ قسطنطنیہ نے تعمیر کروایا جس پر فہد بن عبداللہ نے چودہ سو سترہ
کو تجدید کا کام کیا یا موجودہ عمارت کی تعمیر صرف چار سو چار سال
پرانی
ہے تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے والی عمارت کس نے اور کب میں ایک
کھانا کعبہ کو سب سے پہلے کس نے تعمیر کیا اور پہلا حج کس
نے
کیا بیت اللہ جب موجود نہیں تھا تو اس سے پہلے وہاں پر گیا تھا کون کون سے نبی نے
کس کس طرح خانہ کعبہ کو تعمیر کیا گیا یہ درست ہے کہ سب سے
پہلے
اللہ پاک نے کھانا کعبہ کو پیدا کیا اگر یہ درست ہے تو کیا کسی قرآنی آیت یا حدیث
سے ثابت ہم سب نے یہ تو سن رکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ
السلام
نے خانہ کعبہ کی تعمیر کی لیکن آپ کو یہ جان کر حیرانی ھوگی کہ یہ تعمیر پہلی دفعہ
نہ تھی یا اس سے پہلے بھی موجود تھا امام ابی محمد البغوی اپنی مشہور
زمانہ
تصنیف تفسیر خازن میں لکھتے ہیں کہ خانہ کعبہ کی سب سے پہلی تعمیر سونے کی جو کہ
حضرت آدم کی تخلیق سے بھی دو ہزار سال پہلے تھی کہ بالکل اسی
جگہ
تھی جہاں موجودہ بیت اللہ موجود ہے تفسیر قرطبی میں امام شمس الدین روایت کرتے ہیں
کہ جب فرشتوں نے کہا کہ اے اللہ پاک انسان تو زمین
میں
فساد پھیلائے گا جس پر اللہ پاک نے فرمایا جو کچھ میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے
بس فرشتوں نے یہ مان لیا کہ اللہ پاک ہم سے ناراض ہو گیا ہے
چناچہ
انہوں نے گوشوں میں طواف کرنا شروع کردیا اور ساتھ میں اللہ کی تسبیح اونچی آواز
میں شروع کی تو اللہ نے ان پر رحم فرمایا اور اسی جگہ جہاں
انہوں
نے چکر لگائے اپنے عرش کے نیچے ایک بے مثال زبرجد کے چار ستونوں پر ایک گھر تعمیر
فرما دیا جو بیت المعمور کے نام سے مشہور ہوا سورۃ نور کی
آیت
نمبر 49 میں اللہ پاک نے بیت المعمور کا ذکر فرمایا ہے بیت المعمور ساتویں آسمان
میں عرف کے سامنے کعبہ شریف کے بالکل اوپر ہے آسمان میں
اس
کی قیمت ایسے ہی ہے جیسے کعبہ معظمہ کی عظمت ہے یا آسمان والوں کا قبلہ ہے اور ہر
روز ستر ہزار فرشتے اس میں طواف کے لیے اور نماز کے لئے
حاضر
ہوتے ہیں پھر کبھی انہیں واپس آنے کا موقع نہیں ملتا اس کے بعد اللہ تعالی نے
فرشتوں کو حکم دیا کہ زمین پر بھی اس بیت المقدس کی مانند میرا گھر
بناؤں
گا کر جس طرح فرشتے بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں اسی طرح زمین پر میرے بندے اس
گھر کا طواف کریں گے چنانچہ حکم الہی کی تعمیل میں
فرشتوں
نے اللہ شریف کی تعمیر کی اور اس کا طواف شروع کیا اور فرش نہیں اس کا سب سے پہلے
حج بھی کیا یہ تھی مکہ میں خانہ کعبہ کی سب سے پہلی تعمیر
جو
کہ جنات اور فرشتوں کی لڑائی متاثر ہو گئی اور پھر جب اللہ پاک نے حضرت آدم کو
زمین پر بھیجا تو انہیں اسی بنیادوں پر دوبارہ خانہ کعبہ تعمیر کرنے کا
حکم
دیا حضرت علی علیہ السلام نے ان بنیادوں کی نشاندہی کی اور حضرت آدم نے بیت اللہ
شریف تعمیر کیا کہ اللہ نے حضرت آدم کو طواف کا حکم دیا اور
ساتھ
فرمایا آپ پہلے انسان ہیں اور یہ پہلا اگر تیسری تعمیر وقت کے ساتھ ساتھ کعبہ کی
دیواریں کمزور ہوئی تو حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے حضرت
شیث
علیہ السلام نے مٹی اور پتھر سے خانہ کعبہ کو دوبارہ تعمیر کیا جبکہ کچھ مفسرین کا
خیال ہے کہ حضرت شیش علیہ السلام نے صرف مرمت کا کام کیا تھا
جو
دید امیر ناظرین گرامی تاریخی روایت میں ہے کہ جب طوفان نوح آیا تو اس میں خانہ
کعبہ کی عمارت بالکل غائب ہو کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام
مکہ
گئے تو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی مدد سے حضرت جبرائیل کی بتائیں کی
نشانیوں پر کھدائی کرکے خانہ کعبہ کی تعمیر کی جب القرآن
بنیادوں
پر تھی جہاں حضرت آدم نے اس کو تعمیر فرمایا تھا قرآن کی سورہ بقرہ کی آیت نمبر
127 134 میں اس کا تفصیلی ذکر موجود ہے جب حضرت
ابراہیم
علیہ السلام مکہ پہنچے تو وہاں خانہ کعبہ کی جگہ صرف ایک سرخ پیلا تھا ابھی حضرت
جبرائیل علیہ السلام کی نشاندہی حضرت جبرائیل اسلام کی
نشاندہی
پر جبل ابو قبیس کی کو سے دو پتر ابراہیم علیہ السلام کو ملے ان میں سے ایک حجرہ
اسود بطور ایک مقام ابراہیم کے نام سے مشہور ہے وہ کام نہیں وہ
مشہور
پتا ہے جس پر کھڑے ہو کر حضرت ابراہیم نے کعبہ کی دیواریں بلند کی جیسے جیسے
دیواریں بلند ہوتی گئی یہ پتھر بھی عوام میں بلند ہوتا رہا رسول اللہ
صلی
اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم کچھ یوں ہے اجر اسود جنت سے اترا تو
دور سے بھی زیادہ سفید تھا پھر انسان کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا
ایک
اور حدیث نبوی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حجر اسود اور مقام ابراہیم جنت
کے قوتوں میں سے دو یاقوت ہیں اللہ تعالی نے ان کے نور کی
روشنی
بجھا دیں اور اگر اللہ تعالیٰ کسی نہ بچا تو یہ مشرق سے مغرب کو روشن کر دیتے رسول
اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جب پوچھا گیا کہ بیت اللہ کی جگہ پر
پہلے
کیا تھا آپ نے فرمایا کہ بیت اللہ خادم کے زمانے سے ہے ناظرین گرامی کھانا کعبہ کی
عمارت کی پانچویں تعمیر قوم عمالقہ نے بنیادیں کمزور ہونے کی وجہ
سے
کیں جبکہ چھٹی تمیز قبیلہ جرہم کے سردار جب نماز پڑھنے کی اسی طرح بیت اللہ کی
ساتویں تعمیر نبی آخرالزماں آقائے دوجہاں حضرت محمد صلی اللہ
علیہ
وسلم کے پاک نظمیں ان کے بزرگ حضرت کو انقلاب نے کی یہ خانہ کعبہ کی از سر نو
تعمیر تھی انہوں نے اپنے زمانے کی سب سے بے اور پختہ
عمارت
تعمیر فرمائی اس کے بعد جبکہ قبیلہ قریش بیت اللہ کے متولی تھے تو ایک دفعہ بہت
زیادہ سیلاب آئے جس سے بیت اللہ کی بنیادوں کو بہت نقصان
اس
وجہ سے متفقہ طور پر اس کو منہدم کر کے دوبارہ تعمیر کیا گیا اور بیت اللہ شریف کی
آٹھویں تعمیر تھی میں یہی وہ مشہور تعمیر تھی کہ جس میں محبوب
کائنات
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی شرکت فرمائی تھی اس تعمیر میں سرمائے کی
کمی کی وجہ سے حکیم کو شامل نہ کیا گیا نوی تعمیر خانہ کعبہ کی
دیواریں
شکستہ ہو گئی تو حضرت عبداللہ بن زبیر نے حکیم جو کہ قریش کی تعمیر میں شامل نہ
کیا گیا تھا اس کو شامل کر کے بنیادی ابراہیمی پر نئے سرے سے
تعمیر
کیا بیت اللہ کی دسویں تعمیر عبدالملک بن مروان کے نائب حجاج بن یوسف جو کہ ایک
ظالم حکمران تھا اس نے چوہدری جی میں گھر سے کھانا کعبہ کو
قریش
والی تعمیر کے مطابق بنا دیا خلیفہ دوم سن کر بیٹھا تو اس نے خانہ کعبہ کو منہدم
کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ عبداللہ بن زبیر کی تعمیر کے مطابق تعمیر کرنا
چاہتا
تھا لیکن امام ابو یوسف نے یہ کہہ کر اسے روک دیا کہ اگر یہی طریقہ رہا تو پھر ہر
آنے والا حکمران اپنی شہرت کے لئے خانہ کعبہ کو گرا کر تعمیر کرتا
رہے
گا اور لوگوں کے دلوں سے اس گھر کی عظمت کام ہو جائے گی پھر سوچا کہ میں سلطنت
عثمانیہ کے سلطان مراد بن احمد خان شاہ قسطنطنیہ نے حج
قسمت
والے رکن کے علاوہ ساری عمارت کو بنیادی ابراہیمی پر تعمیر کیا یہی وہ تعمیر تھی
جس میں پہلی بار خانہ کعبہ پر پردہ یا غلاف ڈالا گیا جس پر کلمہ طیبہ
لکھا
تھا عثمانی کی تعمیر کے بعد شاہ فہد بن عبدالعزیز نے سن چودہ سو 17 کو بیت اللہ
شریف کی تجدید کا کام کیا

0 Comments