Islamic Stories In Urdu
بسم
اللہ الرحمن الرحیم فتح مکہ کے بعد جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خانہ
کعبہ میں تشریف لائے تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ
خانہ
کعبہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر کے ساتھ بے شمار تصویریں لگی ہوئی تھی
تو حضرت محمد نے فرمایا کہ خانہ کعبہ میں جتنی بھی تصویریں لگی
ہوئی
ہے سب تصویروں کو اتار دیا جائے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر سب
تصویریں اتار دی گئیں اس کے بعد نبی کریم نے حضرت علی شیر خدا
کے
ساتھ مل کر خانہ کعبہ میں جتنے بھی بدھ نے سب کو توڑ دیا کو توڑتے ہوئے آپ کی زبان
پر یہ سدا جاری تھی حقائق اور باطل مٹ گیا بے شک باطل
نے
مٹ جانا تھا سب بتوں کو توڑ کر کھانے کعبہ سے شیر کا نام و نشان مٹا دیا گیا صفا
اور مروہ پر دو مشہور پودے جن کا نام عذاب اور نااہل تھا ان بتوں کو بھی
توڑ
دیا گیا بیت اللہ شریف میں بے حرمتی اور زناکاری کی وجہ سے ان دونوں کو رہتی دنیا
کے لئے عبرت کا نشان بنایا گیا تھا جب اللہ تعالی کی طرف سے
حضرت
ابراہیم علیہ السلام کو حکم ہوا کہ اپنی بیوی اور بیٹے حضرت اسماعیل کو لے کر مکہ
شریف چلے جاؤ حضرت ابراہیم اللہ کے حکم کے مطابق اپنے بیوی
بچوں
کو لے کر خانہ کعبہ میں آئے تو یہاں ہر طرف میرا نو سے انسان اور ریت علاقہ تھا
پانی پینے کے لئے کوئی چیز دور دور تک موجود نہ تھی حضرت
ابراہیم
علیہ السلام نے اللہ کے حکم کے مطابق بیوی بچوں کو یہاں چھوڑا واپس چلے گئے جب آپ
نے اس میں دوسری بار کھانا کب آئے تو آپ یہاں
زیادہ
دیر نہ گزرے جو اللہ کے حکم کے مطابق تیسری محرم کا آئے تو بیٹے اسماعیل کے ساتھ
مل کر بیت اللہ کی تعمیر کی بے شک خانہ کعبہ کب اور مقدس
جگہ
ہے جس کی طرف منہ کرکے تمام مسلمان نماز ادا کرتے ہیں اللہ تعالی نے اسی بات پر
زندگی میں ایک بات بیت اللہ شریف کا حج کرنا فرض قرار دیا
ہے
تاکہ وہ پاک صاف ہو کر بیت اللہ شریف سے واپس آئے اور اس کے فرائض و آداب کو سمجھے
نہ ڈرامہ جب سے خانہ کعبہ تعمیر ہوا تب سے لے کر
اب
تک جس نے بھی بیت اللہ کی بیٹیاں غلطی کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالی نے ان کا برا
حال کیا جو کہ رہتی دنیا تک عبرت کا نشان بن کر رہ گئے پھر
چاہے
وہ دنیا کا طاقتور بادشاہ اور اس کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو اور جو ہلکا ہلکا ہوا تھا
وہ قرآن مجید میں موجود ہے اس کے علاوہ قرآن و حدیث کی روشنی میں کئی
ایسے
واقعات ملتے ہیں کہ جنہوں نے بیت اللہ شریف کی بے حرمتی کی ان کو اللہ تعالی نے
دردناک عذاب دے کر تباہ و برباد کر دیا اس کی ایک مثال اس
فون
علاقے بھوتوں کی ہے ان کا قصہ امام ابن کثیر جلد 1 صفحہ نمبر 335 اور امام آلوسی
نے تفسیر روح المعانی میں اس طرح روایت کیا ہے حضرت عبداللہ
بن
عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ صفا پہاڑی پر بدھ مت کی شکل میں تھا جسے
عذاب کہا جاتا تھا اور مروہ پر ایک بدھ عورت کی شکل میں تھا
جسے
ناعم کہا جاتا تھا یہ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں نے داخلے کا بزنس جس کی وجہ سے اللہ
تعالی نے ان کو پتھر کا بنا دیا پھر انہیں صفا مروہ پہاڑی پر بطور عبرت
کر
دیا گیا پھر جب زمانہ نے طول پکڑا تو ان دونوں کی عبادت کی تبلیغی اہل جاہلیت جب
صفا مروہ کے درمیان سعی کرتے تھے ان دونوں کو چودت جب
اسلام
کی آمد ہوئی رتوں کو پاش پاش کر دیا گیا تو مسلمانوں نے صفا و مروہ کے درمیان کو
ان دونوں باتوں کی وجہ سے ناپسند کیا علامہ ہیثمی نے البزار مسند
جلد
نمبر صفحہ نمبر 299 پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے کہ حضرت
عائشہ فرماتی ہیں کہ ہم نے لوگوں سے بار بار یہ سن رکھا تھا کہ
آصف
اور لالی جو بندہ جرم کے مرد و زن تھے انہوں نے کہا میں ضلع کیا جس کی وجہ سے
انہیں درگاہ بنا دیا گیا ناظرین گرامی زمانہ جاہلیت میں قبیلہ جرہم کا
ایک
آصف نامی خوبصورت جوان تھا اس کا پورا نام اصحاب بنیادی تھا اور نائلہ ایک خوبصورت
کنواری لڑکی تھی جس کا نام نائلہ بنت زیادہ اس کا تعلق بھی
قبیلے
سے تعلق قبیلہ جرہم قبیلہ تھا جو سب سے پہلے مکہ میں آکر رہائش پذیر ہوا تھا یہ
قبیلہ ہر وقت بیت اللہ شریف کے اردگرد ہی دکھائی دیتا تھا لیکن بعد
میں
اس قبیلے کو شکست ہوئی تو یہ یمن میں جاکر رہائش پذیر ہوگیا اگر یہ دونوں محبت کے
پجاری اساف اور نائلہ بھی یمن میں رہنے لگے روایات میں آتا
ہے
کہ ان کے گھر والے ان کی شادی کے خلاف تھے جس وجہ سے ان کے ملنے پر ایران میں ناجائز
تعلقات روز بروز بڑھتے گئے ایک مرتبہ قافلے کے
ساتھ
حج کرنے کا دونوں کا اتفاق ہوا تو جب یہ خانہ کعبہ میں داخل ہوئے تو وہاں انہوں نے
کسی شخص کو نہ پایا اس تنہائی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان
دونوں
نے بیت اللہ شریف میں زنا کاری کرنا شروع کردیں ان دونوں پر اسی وقت اللہ تعالی نے
عذاب نازل کیا تو وہ دونوں پر لڑکے بن گئے جب
دوسرے
قافلے کے لوگ کھانا کعبہ کے اندر گئے اور ان دونوں کو پتھر کی حال دیکھ کر بہت
حیران و پریشان ہوئے تو لوگوں نے ان دونوں کی مورتیوں کو
کھانا
کعبہ سے اٹھایا اور باہر لا کر رکھ دیا تھا کہ ہر خانہ کعبہ میں آنے والے لوگ ان
کے دردناک انجام سے عبرت حاصل کریں لیکن ان کے اس عمل کا
نتیجہ
کچھ اور ہی نکلا مکہ کے لوگوں نے اس کے بدن کو اٹھا کر صفحہ کے مقام پر رکھ دیا
جبکہ اللہ کے بدھ کو مروا کے مقام پر لے اور ان کو ان کے انجام کی
سزا
یہ مقرر کی تھی کہ جو بھی شخص صفاومروا پر جائے ان دونوں کے بتوں پر ایک ایک جوتا
رسید کرے کچھ نصرت کا یہ عمل جاری رہا پھر لوگ انہیں
ترپل
رسید کرنے شروع کر دیے کچھ دنوں کے بعد لوگوں نے ان کو ہاتھ لگانا شروع کر دیا
لیکن لوگوں نے ان سے عبرت حاصل کرنا اور ان کی پوجا زیادہ
شروع
کردیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں یہ بات پڑے ہو تو میں شمار کیے
جاتے تھے آقا کے لوگ ان کو خدا مانتے اور ان کے سامنے سجدہ
ریز
ہوتے من مانتے اور بڑی بڑی قربانیاں کرنا شروع کردی فتح مکہ والے دن نبی اکرم صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اساف اور نائلہ کے بتوں کو بھی صفا اور
مروہ
فاصلہ کر توڑ دیا حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ چونکہ یہ دونوں بدھ صفا و مروہ پر
تھے تو اس لئے مسلمان ان دونوں کے درمیان سچائی کو برا
محسوس
کرتے تھے تو پھر اللہ پاک نے یہ آیت نازل فرمائی بے شک صفا اور مروہ اللہ کی
نشانیوں میں سے ہیں جو کابل میں عمر کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں
کہ
ان کے درمیان طواف کرے اور جو کوئی اپنی خوشی سے نیکی کرے تو بے شک اللہ کا قدردان
جاننے والا ہے لہذا آج ہر مسلمان کو حج یا عمرے کی
سعادت
حاصل کرتا ہے وہ صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ چکر لگاتا ہے جو کہ مناسک حج
میں شامل ہیں اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پیارے
حرم
کہ میں جلد از جلد بلا لے اور جو ایک دفعہ جا چکے انہیں بار بار حاضری نصیب ہو
اللہ پاک ہم سب کو نیکی کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرما دے

0 Comments