بہلول اس شاہی خاندان کی کس قدر ذلت ہو رہی ہے تمہاری وجہ سے۔۔۔۔ اس بات کا اندازہ ہے کیا تم کو،۔۔۔ سب لوگ تو یہی جانتے ہیں کہ تم
میرے رشتے دار اور تم ہو۔ اور تم ہو کہ اس حلیے میں جگہ جگہ گھومتے پھرتے ہو۔ کچھ نہیں تو میرے منصب اور مرتبے کا خیال کر لو۔ حضرت بہلول دانا
رحمۃ اللہ علیہ نے جب ہارون کے جب یہ الفاظ سنے تو بے دھڑک کو کہنے لگے اچھا ہارون یہ بتاؤ کہ تم ایک جنگل بیابان میں راستہ بھٹک جاتے ہو۔ پیاس
کے مارے تمہارا دم نکل رہا ہو۔ تجھے پانی ایک گھونٹ نہ مل رہا ہو۔ اگر کوئی پانی پلانے والا شخص تمہیں کہے کہ پانی کے ایک گھونٹ کی قیمت منہ مانگے دام
وصول کروں گا تو کیا قیمت ادا کرنے پر تیار ہو جاؤ گے ؟ہارون نے کچھ سوچا اور جواب دیا جو مال و متاع میرے پاس ہو گا ۔اسی وقت سب کچھ دینے کو تیار
ہو جاؤں گا۔ بہلول نے کہا اور اگر وہ اس پر راضی نہ ہو تو ؟ ہا رون کہنے لگا میں اپنی آدھی سلطنت اس کے نام کر دوں گا۔ حضرت بہلول رحمۃ اللہ علیہ کہنے
لگے اچھا ! اور اگر پانی کا یہ ایک گھونٹ پی کر تمہاری جان تو بچ جائے مگر تجھے پیشاب رکنے کی بیماری لاحق ہو جائے ،اور کسی طرح وہ دور نہ ہو ، تیری جان
پر بن جائے اور تجھے پتہ چلے کہ کوئی شخص تیری اس بیماری کا علاج کر سکتا ہے۔ تو دو اسے کیا دے گا؟ ہارون نے کہا میں اپنی باقی سلطنت بھی دے دوں گا
جان ہے تو جہان ہے۔
ارے واہ! بہلول کہنے لگے تو پھر تم اس بادشاہی پر غرور کرتے ہو جس کی قیمت پانی کے دو گھونٹ سے زیادہ نہیں؟ ہارون خفیف سا ہو گیا ۔ بہلول تم
دیوانے ہوگئے مگر تمہاری عادتیں نہیں بدلیں۔ اچھا یہ بتاؤ تم علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی بہن بات کرتے ہو یہ کیا وجہ ہے؟ بہلول سیدھے ہو بیٹھے ۔
اور واضح لفظوں میں بولنے لگے میرے خیال میں پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت علیہ السلام کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ جو کسی اور
کے حصے میں نہیں آیا ۔ وہ سچے مومن تھے اور اطاعت خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ان سے ذرہ بھر بھی کوتاہی نہیں ہوئی۔ انہوں نے خدائی
احکامات پر حرف با حرف عمل کیا۔ آپ کے جیسا بہادر اور نڈر ڈنڈے نہیں ملتا ۔حضرت علی علیہ السلام سے کسی نے پوچھا حضرت آپ جنگ میں اپنی
جان کی پرواہ نہیں کرتے۔ اگر کوئی پیچھے سے حملہ کرکے آپ کی جان لے لے تو پھر؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے میری لڑائی خدا کے دین کی خاطر ہے اس میں مجھے کسی لالچ ذاتی مفاد اور فائدے کا خیال نہیں ہوتا میری جان خدا
کے ہاتھ میں ہے خدا کی راہ میں مر جاؤں تو اس سے بڑھ کر سعادت کی بات نہ ہوگی آپ جب مسلمانوں کا خلیفہ تھے تو اپنا سارا وقت لوگوں کی خدمت
اور عبادت میں سرف کرتے۔ بیت المال سے ایک دینار بھی بیکار نہیں اٹھاتے تھے۔ یہاں تک کہ ان کے بھائی نے جب بیت المال سے اپنی حد سے
زیادہ رقم لینے کی درخواست کی تو آپ علیہ السلام نے رد کر دی۔ آپ تمام حکام سے فرماتے کہ لوگوں پر ظلم نہ کیا جائے۔
ان کے معاملات کے فیصلے عدل و انصاف سے کیے جائیں۔ جو حاکم ذرہ برابر بھی ظلم کرتا ہے اس سے سختی سے نمٹے اور فورا منصب سے ہٹا دیتے چاہے کتنا
ہی قریبی عزیز ہی کیوں نہ ہو۔ ہارون سنتے جا رہا تھا اور بہلول کی دیوانگی ایسے پتے کی باتیں نہیں کر سکتا تھا ۔ ببہلول رحمۃ اللہ نے میں کچھ تو غیر معمولی
ہے۔ جو اتنے علم کا حامل ہے لیکن ڈھٹائی سے ایک اور سوال پوچھ ڈالا۔ اچھا بہلول یہ بتاؤ کہ پھر علی علیہ السلام کو قتل کیوں کیا گیا کہ جب وہ اتنے بندہ
نواز عبادت گزار تھے ؟ حق کی راہ پر چلنے والوں کو اکثر شہید کیا جاتا ہے۔
بہلول نے جواب دیا ۔ ہزاروں پیغمبر اور اللہ کے نیک بندے اسی طرح شہید کئے گئے جس رات عبدالرحمن ابن ملجم قتلِ علی علیہ السلام کے ارادے سے
مسجد میں آیا تو اس کے ساتھ ایک اور شخص بھی تھا۔ وہ دونوں دیر تک باتیں کرتے رہے اور پھر مسجد میں سوگئے صبح جب علی علیہ السلام مسجد میں
تشریف لائے تو وہ بھی بیدار ہوگئے تاک میں بیٹھ گئے جب علی علیہ السلام نے نماز میں سجدہ کیا تو ابن ملجم نے آپ علیہ السلام کے سر پر تلوار سے وار
کیا۔ زخم بہت گہرا تھا اور تلوار بھی زہر آلود تھی جس کی وجہ سے آپ جانبر نہ ہو سکے اور تیسرے دن اپنے بیٹوں کو کچھ وصیت فرمائی خدا کے چاہنے
والوں کے لیے اس فانی دنیا سے انبیاء کا ساتھ بہتر ہے۔ اور جب میں مرجاؤں تو میرے قاتل کو بھی صرف ایک ہی وار لگانا۔ کیونکہ اس نے مجھ پر بھی
صرف ایک ہی وار کیا تھا اس کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کرنا، پھر کچھ دیر کے لیے بے ہوش ہو گئے۔ جب آنکھ کھلی تو فرمایا! مجھے میرے آقا فرما رہے
ہیں کہ علی تم بہت جلد ہمارے ساتھ ہوں گے۔ یہ کہا اور پھر آنکھیں بند کر لیں اور دوبارہ نہ کھولیں بہلول رحمۃ اللہ علیہ کا حرف با حرف درد و الم میں ڈوبا
ہوا تھا ہارون بھی اس کی تا ثیر میں کھو سا گیا اور دیر تک دونوں خاموش بیٹھے رہے۔بہلول اُٹھا اپنی گڈری سنبھالی اور چلتا بنا ۔ ہارون اسے جاتے دیکھتا رہا مگر
کچھ کہ نہ سکا۔

0 Comments