بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اللہ پاک قرآن حکیم کی سورۃ نجم کی آیت نمبر 19 اور 20 میں فرماتا ہے پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو بھی دیکھا ہے اور تیسرے منات گھٹیا کو ناظرین گرامی عرب کے لوگ بتوں کی پرستش میں ڈوبے ہوئے تھے اور مشرکین مکہ کے دو بڑے بت تھے لات اور عزیٰ مشرکین کا عقیدہ تھا کہ لات خوشحالی ، زرخیزی اور خوبصورتی دیتا ہے جب کہ عزیٰ کفار کی بیٹی کہتے تھے کفار کا ماننا تھا کہ عزیٰ سیاہ و سفید کی مالک ہے۔ دن رات کو بدلنا اور موسموں کی تبدیلی کا کام اللہ کے سپرد ہے بات بات پر لوگ لات اور عزیٰ کی قسم کھاتے تھے کاہن لات اور عزی ٰ کا نام لے کر خوب پیسے بناتے تھے
ناظرین گرامی اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لات اور عزیٰ کے بت کہاں سے آئے کہاں سے ان کی عبادت میں کیوں لوگوں نے ان کے آگے سجدہ شروع کیا اور اپنے جانور ذبح کرنے شروع کیے کہا جاتا ہے کہ عرب میں ایک مشہور اور نیک آدمی تھا جس کا نام لات ہےتھا مکہ میں لوگ زیارت کے لیے آتے تھے اس لئے آئے مہمانوں کی خاطر مدارت کرنے کے لیے ان کو ستو پلاتا تھا۔
صحیح بخاری کی حدیث نمبر 4859 میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کے لات ایسا شخص تھا کہ جو حاجیوں کے لیے ستو گھولتا تھا اسی زمانے میں اس دنیا میں ایک نیک اور شریف لڑکی تھی اس کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ اللہ کی بیٹی ہے نعوذ باللہ کیوں کہ وہ طائف کے لوگوں کو ایک ویران مکان ملی تھی اور اس کے والدین نہ تھی جوان ہوئی تو جو کوئی بھی اس کو بری نظر سے دیکھتا ہے اس کی طرف ہاتھ بڑھاتا تو وہ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا ہوجاتا مکہ اور طائف کے سرداروں نے فیصلہ کیا کہ کیوں نہ لات اور عزیٰ کی شادی کر دی جائے چنانچہ ایسا ہی ہوا ۔
لات اور عزی کی شادی کر دی گئی جس کے بعد وہ اپنی شادی کی پہلی رات کے لئے کمرے میں گئے لیکن اس کے بعد لوگوں کو کبھی نہ ملے لات کے چاہنے والے یہ کہتے رہے کہ لات اور عزیٰ ہمیشہ کیلئے امر ہوگئے ہیں جبکہ عزیٰ کے چاہنے والے یہ کہتے رہے کہ جو کہ غزہ کو کبھی کسی مرد نے ہاتھ نہ لگایا تھا اسی لیے اس کی پاکیزگی کو ہمیشہ کے لیے بچا لیا گیا ہے۔ سردار عمر بن لحیحی نے ان دونوں کی کمی یاد میں ان کے بڑے بڑے بت بنا دیئے تھے اب جیسے جیسے زمانہ گزرتا گیا تولوگ ان کے سامنے منتیں مانگنے لگے اور ایک دن آیا کہ ان کے لئے اپنی قربانیاں کرنے لگے اور ان کو سجدہ بھی شروع کردیا ابن اسحاق فرماتے ہیں کہ لات اور طائف میں آباد قبیلہ بنو ثقیف حق رکھتے تھے۔ اور اس سے ہونے والی آمدنی بھی انہی میں بٹتی تھی عمرو بن لحہ نے بنی کنانہ اور قریش سے کہہ دیا تھا کہ تمہارا رب سردی کے موسم میں طائف میں لات کے پاس اور موسم گرما میں غزہ کے پاس رہتا ہے ۔ اس لئے لوگ ان دونوں کی تعظیم کرتے تھے اور ہر ایک کے لئے ایک حجرا بنا دیا تھا اور جس طرح کعبہ کو قربانی کا جانور بھیجتے تھے۔
اسی طرح ان دونوں بتوں کو بھی قربانی کے جانور بیچنے لگے جن کو وہاں بھینٹ چڑھایا کرتے تھے ۔ لات کو خدا کا بیٹا اور عزیٰ کو خدا کی بیٹی کہا جاتا تھا۔ فتح مکہ کے بعد حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کو ختم کروایا۔ ابن کثیر لکھتے ہیں کہ لات کے بت کو توڑنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت مغیرہ بن شعبہ کو بھیجا جنہوں نے لات بت کو توڑ کر وہاں پر مسجد طائف بنادی۔ اسی طرح عزیٰ کے خاتمے کے لیے حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت خالد بن ولید کو بھیجا۔ اس واقعے کو علامہ آلوسی نے اپنی کتاب تفسیر روح المعانی14/55 میں اس طرح لکھا ہے۔ حضرت ابو طفیل سے مروی ہے کہ وہ فرماتے ہیں جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ فتح کیا تو حضرت خالد بن ولید کو بطن نخلہ کی جانب بھیجا اور وہاں عزی نامی بت تھا ۔ حضرت خالد بن ولید اس درخت کے پاس گئے اور کیکر کے درختوں جھاڑیوں کو کاٹ دیا اور عزی کو یہاں مراد وہ وجہ ہے
جس سے تعظیما عزی کے ارد گرد بنا رکھا تھا۔ ڈھا دیا پھر واپس آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا دوبارہ جاو ، تم نے کچھ کیا ہی نہیں۔ حضرت خالد دوبار ہ گئے اور برابر چوکنے رہے ۔ جب مجاوروں نے نے خالد کو دیکھا تو پہاڑوں میں پھیل گئے اور کہنے لگے، عزی ، عزی کہ یکا یک حضرت خالد کے سامنے ایک کالی بھجنگ برہنہ بکھرے ہوئے سر اور منہ پر خاک اڑاتی ہوئی عورت برآمد ہوئی پھر حضرت خالد کی جانب تلوار پھیلائی اور لمحات میں اس کے ٹکڑے کردیئے پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آ کر اطلاع دی تو آپ نے فرمایا ہاں! وہ عزی تھی ناظرین گرامی اس طرح مشرکین عرب کے سب سے خاص بت لات اور عزیٰ کو اس دنیا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم کر دیا گیا اور مکہ کی پاک زمین کو ہمیشہ ہمیشہ یہ بتوں سے پاک کر دیا گیا

0 Comments