بسم اللہ الرحمٰن الرحیم اکثر ہمارے ذہنوں میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرندوں کو قید کر کے رکھا جا سکتا ہے کیا ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی حدیث پاک اس موضوع پر موجود ہے کبوتر کو گھر میں رکھنے سے خوشحالی آتی ہے یا کہ وہ گھر والوں کے لیے ممنوع ہوتا ہے کبوتروں کا جنات سے کیا تعلق ہے کبوتر کسی بھی شخص کو بددعا کب دیتا ہے نہ زنا میں سب سے پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کرلیں کہ جانور اور پرندے پالنا جائز ہے بشرطیکہ ان کی خوراک اور نگہداشت کا بھرپور انتظام کیا جائے ان کو تنگ نہ کیا جائے اور بیماری کی صورت میں کا علاج معالجہ کروایا جائے ناظرین گرامی بخاری کی حدیث نمبر 2291 اور مسلم کی حدیث نمبر 692 پر روایت اس طرح ہے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ کے چھوٹے بھائی نے ایک پرندہ پال رکھا تھا اور جب بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر جاتے تو یوں دریافت فرماتے ہیں کہ اے ابو عمیر اس پرندے کا کیا کیا جس سے کھیلتا ہے اب ذرا غور فرمائیے کہ اگر پرندہ رکھنا گناہ ہوتا تو ضرور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت انس کو منع فرماتے تھے بے شک پرندہ گھر میں رکھے جا سکتے ہیں


 

لیکن یہ یاد رکھیے کہ اگر آپ نے کسی پرندے یا جانور کو گھر میں رکھا اور اس کا خیال نہ رکھا تو پھر روڈ آپ گناہ کے مرتکب ہوں گے جیسا کہ نبی آخرالزماں سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک عورت صرف اسی وجہ سے جہنم میں جائیں گی کہ اس نے بلی کو اس حال میں باندھے رکھا کہنا اس کو کچھ کھانے کو دیا اور نہ ہی پانی پلایا نہ اس کو کھلا چھوڑا کہ وہ خود قابیلے اور بلیاں سی بی علی میں مر گئی اسی طرح کبوتر کو بھی گھر میں پالنے سے منع نہیں کیا گیا لیکن پرندوں کو ستانا ایک بہت بڑا گناہ ہے جیسا کہ ابوداؤد شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کی روایت کردہ ایک حدیث میں کبوتر کا ذکر ملتا ہے ایک دفعہ کبوتری حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور اپنی زبان میں کچھ کہنے لگی جب وہ چپ ہو گئی تو حضور نبی کریم نے فرمایا میرے کس صحابی نے اس کبوتری کے گھونسلے سے انڈے اٹھایا پاس ایک صحابی نے اقرار کیا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ فورا اس کے انڈے واپس کر کھائیں ناظرین کرام پرندوں کو ستانے کوئی خیر نہیں بلکہ الٹا پرندے اپنے ستانے والے کے لیے بد دعا کرتے ہیں جو کہ کبوتر بھی ان دنوں میں شامل ہے جو کہ ہم نبی علیہ الصلاۃ والسلام کا پسندیدہ رہا ہے اگر کبوتر کو ستایا جائے گا تو کبوتر بھی بد دعا دے سکتا ہے لہذا کبوتر کو ستانے سے اجتناب کرنا

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تنہائی کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ایک جوڑا کبوتر کا فالو حضرت جعفر صادق فرماتے ہیں کہ کبوتر پیغمبروں کے پرندوں میں سے ہے کبوتر گھر میں رکھو جو کہ حضرت نوح علیہ السلام نے اس کو پسند کیا ہے اور دعا دی ہے کہ کسی پرندے پر اتنا پیار نہیں آتا اتنا کبوتر پر آتا ہے آپ نے فرمایا جس گھر میں کبوتر ہو اس گھر میں رہنے والے جنوں کی آفت سے محفوظ رہتے ہیں کیونکہ جنوں کے بچے گھروں میں کھیلتے کھیلتے ہیں جس گھر میں کبوتر ہوتے ہیں وہ ان سے مشغول رہتے ہیں اور آدمی کی طرف توجہ نہیں ہوتی یہ کبوتر ہیں

 

وہ خوش قسمت پرندہ تھا کہ جسے حضرت نوح علیہ السلام نے جب طوفان تما تو کشتی سے اڑایا کہ دیکھ کر آئے گی پر خشک زمین ہے روایات بتاتی ہیں کہ کبوتر کے پر جڑنے میں بھی خیر ہے کیونکہ یہ تجربہ رکھتے ہیں جب شیاطین پاتے ہیں کبوتر بڑا ذہین پرندہ ہے جو عشق ان کی تصویر سے پہچان لیتا ہے سائنسدانوں کا خیال ہے کہ کبوتر آئینے میں اپنی تصویر دیکھ کر خود کو بھی پہچان سکتا ہے یا نہیں یہ چہرے کی پہچان کی حد تک خود شناسی کیا ہے یہ خصوصیت جو کہ دوسرے پرندوں میں نہیں پائی جاتی اسی نے اس کی اپنی جداگانہ حیثیت ہے جو کسی بھی دوسرے پرندے سے انہیں اس خصوصیت میں ممتاز کر دی ہے اس کے علاوہ کبوتر میں حروف کو شناخت کرنے کی بھی صلاحیت پائی جاتی ہے جرگے کے ذریعے سائنسدانوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ کبوتر پورے انگریزی حروف تہجی کو شناخت کرتا ہے جو ان کے ذہنی صلاحیت کی آئینہ دار ہوتی ہے کبوتر کی چونچ سے پانی چوس کر پینا جانتا ہے جب کہ دوسرے پرندوں میں یہ خصوصیت نہیں پائی جاتی کبوتر ہزاروں میل دور سے اپنے گھر کا پتا ڈھونڈ لیتا ہے یہ کیسے ممکن ہے ناظرین گرامی اس کے متعلق کئی نظریات پیش کئے گئے ہیں جن میں سے ایک نظریہ مقناطیسیت کا نظریہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ جاندار سورج کو رہنما بنا کر مشرق و مغرب کی سمتوں کا تعین کرتا ہے بے شک کبوتر کا گھر میں پالنا باعث برکت ہے کیونکہ نبی کریم نے بھی کبوتر کو پسند فرمایا ہے لیکن یہ بات یاد رہے کہ کبوتر بازی سے منع کیا گیا ہے

 

 اس لیے اگر کوئی شخص کبوتر اس نیت سے رکھتا ہے کہ وہ ان کی بازی لگائے گا تو پھر کبوتر پالنا حرام ہو جائے گا حضرت ابو اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ ایک شخص کو اڑتے ہوئے کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھا تو حضور نے فرمایا شیطان شیطان کے پیچھے لگائے ہوئے ہیں اندازہ کیجیے کہ اگر آپ کو بہتر کی بازی لگاتے ہیں یا اس کو شرط لگا کر آتے ہیں تو پھر وہ کھڑا ہوا کبوتر بھی شیطان ہیں اور اس کو اڑانے والا بھی شیطان ہو گا کبوتر کے بے شمار فائدے اور برکتیں ہیں لیکن پھر بھی کبوتر بازی ایک حرام عمل ہے کبوتربازی جانوروں کی لڑائی یہ ایسے مشورے ہیں جن میں پڑھ کر انسان اپنے دیگر فرائض اور اسلامیات کو بھول جاتا ہے جس وجہ سے اس کو شیطانی عمل کہا گیا ہے اسی طرح جانوروں کو آپس میں لڑانے سے بھی سختی سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ اسے جانوروں کو تکلیف ہوتی ہے اور جان کو تکلیف دینا حرام ہے

 

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جانوروں کو عداوت قریب دینا درست نہیں جیسا کہ مسند ابی یعلی 651 اور مسند بزار 2063 میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کے چہرے پر داغ لگا ہوا تھا تو آپ نے فرمایا جاؤ ان کے والد سے کہو کہ اس کے چہرے سے آپ کو دور رکھے حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک گدا دیکھا جس کے چہرے کو داغ گیا تھا مایا اللہ کی لعنت برس سے اس آدمی پر جس نے یہ داغ دیا ناظرین گرامی جانور اور پرندے گھر میں رکھے لیکن اس بات کا خیال رکھا جائے کہ انہیں کسی سے قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اللہ کریم ہمیں جانوروں اور پرندوں کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین میں کمال کریں اور برائیوں سے دور رہی ہیں اللہ پاک ہمیں نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بے عطا فرما