بسم اللہ الرحمن الرحیم ایران کے شہر بسطام میں ایک سو ساٹھ ہجری میں ایک عظیم بزرگ گزرے ہیں. جن کے تقوی و پرہیزگاری حسنِ سلوگ اور عبادت میں انہیں بہت جلد مشہور کیا ان کی عبادت کا چرچہ لوگوں میں یوں تھا کہ جب بھی وہ عبادت کردے تو خوف کے سبب آپ کی ہڈیوں سے چرچراہٹ کی آواز نکلتی تھیں۔ ناظرین  گرامی آ سلطان العارفین غوث زماں حضرت  با یزید  بسطامی رحمہ اللہ  علیہ تھے ۔


 

طبقات صوفیہ صفحہ نمبر 47 اور سمندری گنبد ص نمبر 11 پر   حضرت زید کا ایک مشہور واقعہ کچھ اس طرح لکھا ہے کہ حضرت بایزید بسطامی فرماتے ہیں کے میں عبادت الہٰی میں مشغول تھا کہ میں نے یہ ندا سنی کہ دوسرے سامان کی طرف چل اور عیسائیوں کے ساتھ ان کی عید اورقربانی میں حاضر ہو جاؤں مجھے بہت افسوس ہوا عبادت میری آنکھ لگ گئی تو خواب میں بھی مجھے کسی نورانی شکل والے شخص نے کہا کہ بایزید سمعان  کی طرف چلا جا اور عیسائیوں کی عید میں شامل ہو جا۔ خیر  میں اللہ کا ذکر کیا اور عیسائی راہب کا لباس پہن کر زنار باندھ کر نکل پڑا۔ اگلی صبح میں گیا اور وہاں عیسائیوں کی عید کا دن بے حد خوشی ومسرت سے منایا جا رہا تھا یہاں ایک بہت بڑا اجتماع منعقد کیا گیا تھا جہاں پورے ملک سے عیسائی راہب اپنے بڑے پادری کے مجلس سننے کے لیے جمع تھے
 
حضرت بایزید بسطامی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے بھی راہب  کا روپ دھار رکھا تھا اور بالکل ان جیسا ہی دیکھ رہا تھا اس لئے میں بھی اس مجلس میں بیٹھ گیا جب بڑا راہب مجلس میں آیا اور ممبر پر بیٹھا تو ہر طرف خاموشی چھا گئی لوگ دور دور سے اس راہب  کی مذہبی باتیں سننے کے لیے جمع ہوئے تھے ۔ جب بڑا رہب  بولنے لگا تو زبان لڑکھڑانے لگی ۔ لوگ بہت پریشان ہوئے کے کہ ہمارے بڑے راہب  کو کیا ہوا ہے؟ بڑا راہب  بولا  کے میرے ممبر کالرزنا اور زبان میں لڑکھڑاہٹ اس بات کی نشاندہی ہے کہ ہم میں کوئی محمدی شخص پر بیٹھا ہے ۔وہ یہاں ہمارے دین کی آزمائش اور اپنے دین کی تبلیغ کے لیے ہمارے درمیان میں ہمارے جیسا بن کر بیٹھا ہے سب لوگ بہت بڑے کے مرشد قربانی کا یہ کہ وہ کون ہے ہم  ابھی اس کو سولی پر لٹکا دیتے ہیں
 
 اب یہاں چھوٹے بڑے رعب کے علم و منزلت کا مسئلہ تھا اس لیے اس نے کہا کہ نہیں اس محمدی  کو قتل نہیں کرنا بلکہ میں اسے ایسے سوالات پوچھوں گا کہ وہ یہاں سے شرمندہ ہو کر جائے گا اور ہمیشہ رہتی دنیا تک ہمارا دین سر بلند ہو جائے گا اور مسلمان ہمیشہ کے لئے ذلیل و خوار ہو جائیں گے ۔ بڑا راہب ممبر پر کھڑا ہوا دل سے پکارنے لگا اے محمّدی تجھے تیرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم ہے کہ کھڑا ہو جا اور میرا مقابلہ کر" حضرت بایزید نے اسی کو اللہ کی مرضی جانی اور جبہ اُتار کر کھڑے ہوگئے۔ بڑا راہب بولا اے محمّدی ! آج میں تم سے کچھ بات پوچھوں گا اگر تو نے ان سب کے سوالات کے جوابات دیئے تو میں  اور میرا یہ سارا مجمع مسلمان ہو جائے گا اور اگر تم نے ایک بھی سوال کا جواب نہ دیا تو تمہیں اس  چوری سولی  پر لٹکایا جائے گا اور یہ سارا ماجرا مسلمانوں کی شرمندگی کا باعث بھی بنے گا اور یہ ایسے سوالات ہونگے کہ جو ہماری کتابوں میں پائے جاتے ہیں اور اگر تمہاری کتاب قرآن سچی ہے تو اس میں بھی ضرور ان سوالوں کے جواب ہوں گے
 
 حضرت بایزید بسطامی فرمانے لگے ٹھیک ہے۔ لیکن یہ یاد رکھنا کہ میرے اور تمہارے درمیان اللہ اس بات  کا گواہ  ہوگا۔ حضرت بایزید کو ممبر کے قریب پایا گیا اور بڑے راہب نے سوالات پوچھنا شروع کر دیے ایسی قوم بتاؤ جو جھوٹی اورخطا کار ہونے کے باوجود جنت میں جائے ۔اور ایسی قوم م بتاو جو سچی  ہونے کے باوجود دوزخ میں جائے گی۔ حضرت با یزید فرمانے لگے وہ جھوٹی قوم جوب ہشت میں جائے گی وہ یوسف علیہ السلام کے بھائی اور ان کی آل اولاد ہیں کہ اللہ تعالی نے ان کی خطامعاف  فرما دی۔ اوروہ  سچی قوم  جو دوزخ میں جائے گی وہ یہود و نصاری کی قوم ہے۔،کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے دین کو جھوٹا کہنے میں سچے ہیں۔ راہب نے   اگلا سوال کیا تیرا نام تیرے جسم میں کہاں رہتا ہے؟
 
حضرت بایزید بو لے  میرا نام میرے جسم میں میرے کانوں میں رہتا ہے ۔راہب کہنے لگا ایسی 14 چیزوں کے نام بتاؤ جن سےاللہ روزانہ گفتگو کرتا ہے؟ حضرت بایزید نے قرآن کی آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ وہ سات زمین اور سات آسمان  ہیں ۔راہب  نے  سوال کیا وہ کونسی قبر ہے؟ جو مقبور  کو  لے  کر چلے ہو۔ آپ نے فرمایا وہ حضرت یونس علیہ السلام کو نگلنے والی مچھلی  ہے راہب بولا وہ بغیر روح  کے سانس کون لیتا ہے ۔حضرت بایزید فرمانے لگے و صبح ہے  جو بغیر سانس روح کے سانس لیتی ہے ۔راہب  بولا ایسا پا نی بتاؤ جو نہ آسمان سے اترا اور نہ ہی زمین سے نکلا ہوں حضرت بایزید فرمانے لگے وہ گھوڑوں کا پسینہ ہے جسے ملکہ بلقیس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کی آزمائش کے لیے بھیجا تھا۔  راہب  بولا  وہ چار بتاؤ جو نہ باپ کے پشت سے پیدا ہوئے ہیں اور نہ  شکم مادر سے حضرت بایزید فرمانے لگے وہ اسماعیل علیہ السلام کی وجہ سے زبح  ہونے والا دنبہ، صالح علیہ السلام کی اونٹنی حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوّا ہیں ۔راہب بولا پہلا نا حق خون کس  تھا ؟
 
حضرت  بایزید کہنے لگے وہ آدم علیہ السلام کے بیٹے ہابیل کا خون ہے ۔ جسے بھائی قابیل  نے قتل کیا تھا۔ راہب  کہنے لگا وہ کونسی چیز ہے جسے اللہ نے خود پیدا  فرمایا اور خود ہی خرید لیا؟ وہ جسے اللہ نے پیدا فرمایا اور پھر خود ہی اسے ناپسند فرمایا وہ  ایسی کونسی چیز ہے جسے اللہ نے خود پیدا کیے اور پوچھا ہو کہ یہ کیا ہے حضرت بایزید بسطامی فرمانے لگے وہ چیز جو اللہ نے پیدا فرمایا پھر اسے خرید لیا وہ مومن کی جان ہے اور وہ چیز جو پیدا فرمائی کہ اسے ناپسند فرمایا وہ گدھے کی آواز ہے ۔وہ چیز جو اللہ نے پیدا فرمایا پھر اسے برا کہا وہ عورتوں کا مکر ہے۔ اور وہ چیز جو اللہ نے پیدا فرمائی  ہو اور پھر پوچھا ہو کے یہ  کیا ہے
 
وہ حضرت موسی علیہ السلام کا عصا ہے، راہب  کہنے لگا سب سے افضل دریا کون سے ہیں، افضل پہاڑ کونسا ہے ،جانوروں میں افضل  کون ہے؟ مہینوں میں افضل کونسا  ہے اور طامہ کونسے دن ہوگا؟ حضرت بایزید فرمانے لگے افضل دریا وہ سیحون ، جیجون ، دجلہ فرات اور نیل مصر ہیں۔ سب پہاڑوں سے افضل کوہِ طور ہے اور سب جانوروں سے افضل گھوڑا ہے اور سب مہینوں سے افضل مہینہ رمضان ہے ۔ طامہ قیامت کے دن کو کہا جاتا ہے ۔ا راہب بلولا ایسی چیز بتاؤ جو بے جان ہو، لیکن اس نے تمہارے بیت اللہ کا طواف کیا ہو ایسی چار چیزیں بتاؤ کہ جن کا ذائقہ مختلف ہو  لیکن جڑ پھر بھی ایک ہو ۔آنکھ منہ ناک اور کان کے پانی کا ذائقہ کیا ہوتا ہے؟ حضرت با یزید بسطامی فرمانے لگے وہ چیز جو بے جان اور بیت اللہ کا طواف حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہے۔ تم نے وہ چار چیزیں پوچھی ہیں جن کا رنگ اور ذائقہ مختلف ہے اللہ کے جڑ ایک ہے وہ آنکھیں  ، ناک ، منہ ،  کان ہیں ۔ کہ مغز سر انسان سب کی جڑ ہے آنکھوں  کا کا پانی نمکین ہے منہ کا پانی میٹھا ہے، اور کانون کا  پانی کڑوا  ہے ۔
 
راہب کہنے لگا وہ قوم بتاؤ جو انسان ہو نہ فرشتے اور نہ ہی جن لیکن پھر بھی ان پر وحی  آئی ہو ، جب رات ہوتی ہو تو دن کہاں جاتا ہےاور دن کے وقت رات کہاں جاتی ہے ۔ حضرت  بایزید فرمانے  لگے  تم نے وہ قوم پوچھی  ہے جن پر وحی آئی، حالانکہ وہ انسان ہیں  نہ فرشتے ناجن  اور نہ شہد کی مکھیاں ہیں۔ تم نے پوچھا کہ جب رات ہوتی ہے تو دن کہاں  چلا  جاتا ہے اور جب دن ہوتا ہے بعدرات  کہاں جاتی ہے۔ اس کا جواب ہے کہ جب دن ہوتا ہے تورات اللہ تعالی کے  غامض  علم چلی جاتی ہے اور جب رات ہوتی ہے وہ تو دن اللہ تعالی کے غامض علم میں چلا جاتا ہے ۔ اللہ تعالی کا وہ غامض علم کے جہاں کسی مقرب نبی یا فرشتے کی رسائی نہیں ۔ان سوالوں کے جوابات سن کر عیسائیوں کا بڑا راہب خا موش رہ  گیا۔ تو حضرت بایزید فرمانے لگے کیا تمہارا کوئی سوال رہ گیا ہے ؟ راہب نے اپنی گردن جھکا لی اور کہنے لگا نہیں میرا کوئی سوال باقی نہ رہا مجموعے پر خاموشی چھا گئی
 
حضرت بایزید  فرمانے لگے اب میرے بھی ایک سوال کا جواب دے دو، مجھے یہ پوچھنا ہے کہ آسمانوں کی کنجی اور بہشت کی کنجی کون سی چیز ہے؟ پادری سوال سن کر خاموش ہو گیا تو مجمع  کہنے لگا آپ ہمارے بڑے عالم ہیں۔،ایسے کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک لڑکا آپ کے اتنے سوالوں کے جواب دئیے اور آپ کو اس کے ایک سوال کا بھی جواب نہ  آتا ہو ؟وہ بولا کے جواب مجھے آتا ہے اگر میں وہ جواب بتاؤں گا تو تم لوگ میری اتباع نہیں کرو گے۔ سب نے بیک زبان کہا کہ آپ ہمارے پیشوا ہیں ہم ہر حالت میں آپ کے ساتھ ہوں گے تو بڑے پادری نے کہا کہ آسمانوں کی کنجی اور بہشت  کی کنجی کلمہ طیبہ ہے۔تو  سب کلمہ طیبہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے غیب سے  نذر آئی ۔ اے بایزید ہم نے تجھے ایک زنار پہنننے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ ان کے پانچ سوز نار تڑاوا  ڈالیں ۔ اللہ اکبر 500 عیسائی راہبوں کا یکبار اسلام قبول کرنا ایک ایسا واقعہ تھا کہ جس نے پوری دنیا کے عیسائیوں کو ہلا کر رکھ دیا